دادری میں ہندوؤں نے مسلم لڑکیوں کی شادی میں میزبانی کے فرائض انجام دئیے

دادری۔ گائے کا گوشت کھانے کی افواہ کو لے کر دو ہفتہ قبل محمد اخلاق کا پیٹ پیٹ کر قتل کئے جانے کے واقعہ کے بعد سرخیوں میں آئے بساہڑاگاؤں میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان اس وقت ہم آہنگی کا ماحول نظر آیا جب دونوں کمیونٹیز کے لوگوں نے مسلم معاشرے کی دو لڑکیوں کی شادی کی تیاریاں مل جل کر کیں۔

Oct 12, 2015 08:12 AM IST | Updated on: Oct 12, 2015 08:12 AM IST
دادری میں ہندوؤں نے مسلم لڑکیوں کی شادی میں میزبانی کے فرائض انجام دئیے

دادری۔ گائے کا گوشت کھانے کی افواہ کو لے کر دو ہفتہ قبل محمد اخلاق کا پیٹ پیٹ کر قتل کئے جانے کے واقعہ کے بعد سرخیوں میں آئے بساہڑاگاؤں میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان اس وقت ہم آہنگی کا ماحول نظر آیا جب دونوں کمیونٹیز کے لوگوں نے مسلم معاشرے کی دو لڑکیوں کی شادی کی تیاریاں مل جل کر کیں۔

قومی دارالحکومت سے تقریبا 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بساہڑا گاؤں کے رہائشی حکیم دو دنوں پہلے تک اپنی دو بیٹیوں کی شادی کے پروگرام کو گاؤں سے باہر کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے، لیکن گاؤں کے لوگوں نے شادی کے لئے مکمل تحفظ اور تیاریوں کا بھروسہ دیا۔

Loading...

بساہڑا کے لئے حکیم کی بیٹیوں کی شادی اس معنی میں خوشگوار خبر لے کر آئی کہ یہ گاؤں گزشتہ کئی دنوں سے امن اور سلامتی کا منتظر تھا۔ ہندو کمیونٹی کے لوگوں نے حکیم کے گھر شادی کے موقع پر نہ صرف مکمل تحفظ کا بھروسہ دیا بلکہ کھانے، شامیانے اور دوسری تیاریوں میں سرگرمی سے ہاتھ بٹایا۔

گزشتہ 28 ستمبر کی رات اس گاؤں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول اس وقت خراب ہو گیا جب گائے کے گوشت کی افواہ کی وجہ سے ہجوم نے 50 سال کے اخلاق کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا اور اس حملے میں ان کا 22 سالہ بیٹا دانش شدید زخمی ہو گیا۔ ڈپٹی ضلع افسر آر کے سنگھ نے کہا کہ بساہڑاگاؤں کی حالت آہستہ آہستہ معمول پر آ رہی ہے۔

Loading...