جس عدالت میں چائے بیچا کرتا تھا باپ، اسی عدالت میں اب جج بنی بیٹی

چندی گڑھ ۔ جالندھر کے جس سریندر کمار نے ناكودر عدالت کے باہر چائے بیچ کر اپنی زندگی گزاری، اپنے خاندان کا پیٹ بھرا۔ جس عدالت کے باہر چائے بیچ کر اپنی بیٹی کو پڑھایا، آج اسی بیٹی نے ان کا نام فخر سے اونچا کر دیا ہے۔

Dec 31, 2015 04:21 PM IST | Updated on: Dec 31, 2015 04:23 PM IST
جس عدالت میں چائے بیچا کرتا تھا باپ، اسی عدالت میں اب جج بنی بیٹی

چندی گڑھ ۔ جالندھر کے جس سریندر کمار نے ناكودر عدالت کے باہر چائے بیچ کر اپنی زندگی گزاری، اپنے خاندان کا پیٹ بھرا۔ جس عدالت کے باہر چائے بیچ کر اپنی بیٹی کو پڑھایا، آج اسی بیٹی نے ان کا نام فخر سے اونچا کر دیا ہے۔ جی ہاں، وہ بیٹی اب اسی عدالت میں جج بن گئی ہے۔

تیئس سالہ شروتی نے پہلی کوشش میں ہی جج کا امتحان پاس کر لیا ہے۔ یہی نہیں شروتی ایس سی کٹیگری میں فرسٹ آئی  ہیں۔ حال ہی میں راجیہ سبھا ایم پی اویناش رائے نے شروتی کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پنجاب کے لئے باعث فخر ہیں۔

Loading...

ڈکن ہیرالڈ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق، شروتی کے والد نے کبھی بھی یہ سوچا نہیں تھا کہ ایک دن ان کی بیٹی جج بن کر ان کا اور ان کے خاندان کا نام روشن کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق، سریندر کمار کا ماننا تھا کہ ایک دن ان کی بیٹی کچھ اچھا کارنامہ انجام دے گی ، لیکن وہ کورٹ کی جج بن جائے گی، ایسا تو انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔

Loading...