خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ بولے: یعقوب اور افضل کی پھانسی ہمارے کسی کام کی نہیں

چندی گڑھ ۔ آئی بی کے اسپیشل ڈائریکٹر اور را کے چیف رہ چکے اے ایس دللت نے کہا کہ '' یعقوب میمن اور افضل گرو دونوں کی ہی پھانسی سیکورٹی کے نقطہ نظر سے ہمارے کسی کام کی نہیں۔

Jul 31, 2015 07:58 AM IST | Updated on: Jul 31, 2015 08:10 AM IST
خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ بولے: یعقوب اور افضل کی پھانسی ہمارے کسی کام کی نہیں

چندی گڑھ ۔ آئی بی کے اسپیشل ڈائریکٹر اور را کے چیف رہ چکے اے ایس دللت نے کہا کہ '' یعقوب میمن اور افضل گرو دونوں کی ہی پھانسی سیکورٹی کے نقطہ نظر سے ہمارے کسی کام کی نہیں۔ اس سے ملک کو کائی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ بلکہ اس سے کچھ لوگوں (اقلیتوں) کا دل ضرور دکھ گیا ہوگا۔ اس سے کشمیر میں بھی برا اثر پڑ سکتا ہے۔ وہاں کے لوگوں کی نفسیات پر اثر پڑے گا۔ اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ وہاں گولیاں چل جائیں گی، یہاں تنازعہ ہو گا لیکن یہ بات ان کے دل میں گھر کر سکتی ہے۔

اےایس دللت جمعرات کو اپنی کتاب 'کشمیر: دی واجپئی ائیرس' کی لانچنگ کے لئے چندی گڑھ پہنچے تھے۔ یعقوب کے معاملے میں پوچھنے پر بیباک ہو کر انہوں نے کہا کہ 'میں مانتا ہوں کہ ٹرائل فیئر رہا ہوگا۔ جيوڈشيري بھی فیئر ہے۔ لیکن بات اگر اس پھانسی کی ہے تو دیٹ از اے ویسٹ۔ ہمارے کسی کام کی نہیں۔ اگر سی بی آئی چیف کہتے ہیں کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی تو ماننا چاہئے کہ نہیں ہوئی ہوگی. '' سوال اٹھتا ہے کہ جب کوئی آپ کی مدد کر رہا ہے تو بدلے میں آپ کو بھی اس کے بارے میں سوچنا چاہئے یا نہیں۔ اسی وجہ سےبی رمن نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ یعقوب کو پھانسی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اس نے اس کیس میں ہماری مدد کی ہے۔ مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ اگر وہ یعقوب کے بارے میں اپنے خیالات لکھ گئے تھے تو ان کا احترام کیا جانا چاہئے تھا۔ یہی ہمت انہوں نے 2007 میں اسے عوامی کرنے میں بھی دکھائی ہوتی تو بات کچھ اور ہوتی۔

Loading...

Loading...