ویڈیو : مسلم نوجوانوں نے سی این جی سے چلنے والی بائک تیار کرکے ایک مثال قائم کی

رام پور۔ انجینئرنگ کے چار طالب علموں نے سی این جی سے چلنے والی ایک بائک تیار کر ایک شاندار مثال قائم کی ہے۔ یہ بائک فی کلو گرام سی این جی سے کم از کم اسی کلومیٹر کی مسافت طے کرے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ چالیس روپئے سے زیادہ خرچ نہیں ہو گا۔

Dec 15, 2015 05:30 PM IST | Updated on: Dec 15, 2015 05:33 PM IST
ویڈیو : مسلم نوجوانوں نے سی این جی سے چلنے والی بائک تیار کرکے ایک مثال قائم کی

رام پور۔ انجینئرنگ کے چار طالب علموں نے سی این جی سے چلنے والی ایک بائک تیار کر ایک شاندار مثال قائم کی ہے۔ یہ بائک فی کلو گرام سی این جی سے کم از کم اسی کلومیٹر کی مسافت طے کرے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ چالیس روپئے سے زیادہ خرچ نہیں ہو گا۔

ان چاروں نوجوانوں نے گریٹر نوئیڈا کے ایک انجینئرنگ کالج سے اس سال بی ٹیک پاس کیا ہے اور ان کے ذہن میں ایک سال سے بھی کم عرصہ میں سی این جی سے چلنے والی ایک بائک تیار کرنے کا خیال آیا۔ ان کے نام فیصل شاہ خان، سید مونس اطہر، فراز حسن ملک اور وسیم اختر ہیں۔

نیوز 18 سے بات چیت میں فیصل شاہ خان نے کہا کہ ایک دن ہم چاروں بیٹھ کر آپس میں معمول کی باتیں کر رہے تھے تبھی ہمارے ذہن میں سی این جی سے چلنے والی ایک بائک تیار کرنے کا خیال آیا۔ فیصل کہتے ہیں کہ سی این جی سے چلنے والی بائک تیار کرنے کا مقصد ماحولیات کو صاف ستھرا رکھنا اور لوگوں کو ایک انتہائی سستا متبادل فراہم کرنا تھا۔ فیصل کا تعلق یوپی کے رام پور ضلع کے ایک معمولی خاندان سے ہے۔

ان نوجوانوں کے مطابق، ان کی رہنمائی میں ایک مقامی ورکشاپ میں اصلی موٹر بائیک میں نئے آلات لگائے گئے۔ گیس کی مقدار کو کنٹرول کرنے کے لئے موٹر بائیک میں ایک کاربوریٹر اور ایک ریگولیٹرنصب کئے گئے ۔ بائیک میں ایک کلوگرام سی این جی کا سلنڈر فٹ کیا گیا ہے اور یہ پٹرول اور گیس دونوں سے چلتی ہے۔

Loading...

اس پروجیکٹ پر آنے والی کل لاگت کے بارے میں پوچھے جانے پر مونس نے کہا کہ ہم سبھوں نے مل کر بیالیس ہزار روپئے میں ایک روایتی بائک خریدی اور بقیہ پیسے نئے آلات پر خرچ کئے گئے۔ مونس کہتے ہیں کہ ان کے نزدیک اس دنیا میں کوئی بھی چیز ناممکن نہیں ہے۔ اس پروجیکٹ کو تیار کرنے والے ایک دوسرے نوجوان فراز حسن ملک نے کہا کہ اسے تیار کرنے میں جتنا بھی خرچ آیا ہے، ہم لوگوں نے مل جل کر اپنی حصہ داری ادا کی ہے۔ 

خیال رہے کہ اسی سال چار دسمبر کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، دہلی میں منعقدہ قومی نمائش میں جب ان نوجوانوں نے اپنی یہ بائک نمائش کے لئے رکھی تو ماہرین نے ان کی زبردست ستائش کی۔ دریں اثنا، مونس کہتے ہیں کہ ہرطرف سے شاباشی ملنے کے باوجود کالج انتظامیہ کی طرف سے انہیں بہت زیادہ مدد نہیں ملی۔

تاہم بائک کے ساتھ سیفٹی کا مسئلہ ہنوز برقرار ہے۔ فراز کہتے ہیں کہ بائک میں گیس ٹینک لگانے سمیت سیفٹی سے متعلق تمام مسائل کو حل کرنے کی سمت میں ہم کام کر رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اگلے سال یہ بائک سڑکوں پر دوڑنے لگے گی۔ بائک کے مکمل ہونے پر پچاس ہزار سے ساٹھ ہزار کا خرچ آنے کی توقع ہے۔

دہلی میں آلودگی سے متعلق آئی آئی ٹی، کانپور کے ذریعہ کرائے گئے ایک مطالعہ کے مطابق، دلی میں کاروں کے مقابلہ ٹو وہیلروں سے زیادہ آلودگی پھیل رہی ہے۔

Loading...