بیف پر دیئے گئے متنازعہ بیان پر منوہر لال کھٹر کی صفائی، میرے بیان کا غلط مطلب نکالا گیا

نئی دہلی۔ دادری سانحہ اور بیف پر سیاست کا دور ختم ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

Oct 16, 2015 10:45 AM IST | Updated on: Oct 16, 2015 02:55 PM IST
بیف پر دیئے گئے متنازعہ بیان پر منوہر لال کھٹر کی صفائی، میرے بیان کا غلط مطلب نکالا گیا

نئی دہلی : چوطرفہ تنقید کے بعد ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر اپنے متنازعہ بیان پر صفائی پیش کی ہے ۔ کھٹر نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ میرے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ ہو سکتا ہے میرے منہ سے کچھ لفظ نکل گئے ہوں۔ کھٹر کی صفائی کے بعد اخبار نے جواب دینے میں تاخیر نہیں کی۔

کھٹر کے اپنے بیان سے انکار کرنے پر اب انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے کھٹر کے اس بیان کی آڈیو کلپ جاری کر دی ہے۔ اس کلپ میں وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو اگر اس ملک میں رہنا ہے تو انہیں بیف کھانا چھوڑنا ہی پڑے گا۔

اس سے پہلے کھٹر نے ایک انگریزی اخبار کو دئیے اپنے انٹرویو میں کہا کہ گائے، گیتا اور سرسوتی ملک کی اکثریتی کمیونٹی کے لئے مذہبی ایمان کی علامت ہیں۔ مسلم رہیں، مگر اس ملک میں انہیں بیف کھانا چھوڑنا ہی ہوگا۔ کھٹر سے پوچھا گیا تھا کہ وہ دادری کے واقعہ کو کس طرح سے دیکھتے ہیں اور کیا ان واقعات سے ملک میں پولرائزیشن نہیں بڑھے گا؟ اسی کے جواب میں کھٹر نے یہ بات کہی۔

کھٹر نے کہا کہ دادری کا واقعہ غلط فہمی کی وجہ سے ہوا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ دونوں طرف سے غلطی ہوئی ہے۔ کھٹر نے دعوی کیا کہ متاثرہ خاندان نے گائے کو لے کر 'ہلکا تبصرہ' کیا، جس کی وجہ سے لوگوں کا غصہ بھڑکا۔ کھٹر نے یہ بھی کہا کہ کسی شخص پر حملہ کرنا اور اس کو قتل کر دینا بھی غلط ہے۔

Loading...

کھٹر نے کہا کہ جو اس کیس کے لئے ذمہ دار ہیں، انہیں قانون سزا دے گا۔ تاہم، انہوں نے اس واقعہ میں بھیڑ کا موازنہ اس شخص سے کیا جو اپنی ماں کے قتل یا بہن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوتے دیکھتا ہے اور اس کا غصہ بھڑک اٹھتا ہے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ہمیں واقعہ کے پیچھے وجوہات کو سمجھنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی نے ایسا کیوں کیا؟

ادھر، کھٹر کے بیان کے بعد اپوزیشن نے ان پر حملہ بول دیا ہے۔ آر جے ڈی رہنما منوجھ نے کہا کہ کھٹر جی طے کریں گے کہ کون رہے گا ملک میں؟ آئین پر حلف لیتے ہیں اور اسی کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ کھٹر کو آئین کا علم نہیں ہے ۔1 دن کی چھٹی لے کر آئین پڑھیں۔

وہیں کمال فاروقی نے کہا کہ وزیر اعلی کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ وزیر اعلی ہیں۔ دھمکی کی باتیں کرنا چھوڑ دیں۔ وہ آر ایس ایس کے لیڈر نہیں ہیں، اب وزیر اعلی ہیں۔ یہ دھمکی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ملک میں نظام ہے، قانون ہے۔

جبکہ کانگریس لیڈرراشد علوی نے کہا کہ گائے کی عزت کرنی چاہئے، وہ الگ سوال ہے۔ وزیر اعلی کا یہ بیان آئین کے خلاف ہے۔ اس بیان کے بعد انہیں سی ایم رہنے کا حق نہیں ہے۔ کاٹجو کے بارے میں ان کا کیا کہنا ہے۔ آئین کے خلاف ہے۔ میں ان کے استعفی کا مطالبہ کرتا ہوں۔ وزیر اعظم کو انہیں ہٹا دینا چاہئے۔

Loading...