پاکستان نے قومی سلامتی کے مشیر کی سطح کی بات چیت رد کی ، ہندوستان نے بدقسمتی قرار دیا

حریت رہنماوں سے ملاقات اور مسئلہ کشمیر پر ہندستان اور پاکستان کے متضاد رخ کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان کل یہاں ہونے والی قومی سلامتی کے مشیروں کی سطح کی بات چیت کے امکانات تقریبا ختم نظر آتے ہیں

Aug 22, 2015 09:14 PM IST | Updated on: Aug 22, 2015 11:54 PM IST
پاکستان نے قومی سلامتی کے مشیر کی سطح کی بات چیت رد کی ، ہندوستان نے بدقسمتی قرار دیا

نئی دہلی : آخر کار پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ہونے والی قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) سطح کی اہم بات چیت منسوخ ہو گئی ۔ حکومت پاکستان نے دیر رات بات چیت منسوخ کرتے ہوئے فیصلہ لیا ہے کہ اس کے این ایس اے سرتاج عزیز ہندوستان نہیں آئیں گے ۔ دہشت گردی پر بات چیت کرنے سے پیچھے ہٹتے ہوئے پاکستان نے کہا ہے کہ ہندوستان کی شرط پر وہ بات چیت نہیں کرے گا ۔

ادھر پاکستان کے ذریعہ  بات چیت منسوخ کرنے کے فیصلے کو ہندوستانی وزارت خارجہ نے بدقسمتی قرار دیا ہے ۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ ہم صرف شملہ اور اوفا معاہدے کا احترام چاہتے ہیں ۔ ہندوستان نے بات چیت منسوخ کرنے کے لئے کوئی شرط نہیں رکھی تھی ۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے دیر رات بیان جاری کر کے کہا کہ شام کو وزیر خارجہ سشما سوراج کی پریس كانفرنس کے بعد ہی اس نے فیصلہ لیا کہ اب بات چیت کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔ پاکستان کے این ایس اے سرتاج عزیز نے کہا کہ ہندوستان کی شرائط انہیں منظور نہیں ہیں ۔ اگر بات چیت ہوگی تو کشمیر مسئلے پر بھی ہو گی جس میں حریت بھی شامل ہوں گے ۔

اس سے قبل وزیر خارجہ سشما سوراج نے ہندوستان کا رخ واضح کرتے ہوئے  کہا  تھا کہ پاکستان کا رویہ شملہ اور اوفامعاہدوں کی روح کے خلاف ہے اور وہ اگر اس رخ کو نہیں چھوڑتا ہے تو بات چیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز آنے کو تیارہیں تو ہم بھی انہیں بلانے كو تیار ہیں لیکن انہیں یقین دہانی کرانی ہوگی کہ حریت کو بات چیت میں فریق نہیں بنایا جائے گا اور یہ بھی کہ بات چیت دہشت گردی تک محدود رہے گی۔ ہندستان کو پاکستان کے جواب کا انتظار ہے جس کے لئے اس کے پاس آج رات تک کا وقت ہے. یہ پوچھے جانے پر کہ آج رات سے ان کا کیا مطلب ہے انہوں نے کہا کہ آدھی رات کے بعد تاریخ بدل جاتی ہے۔

Loading...

وزیر خارجہ نے مسٹر عزیز کے اس الزام کو غلط بتایا کہ ہندستان بات چیت کے لئے کوئی شرط رکھ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان تو پاکستان کو شملہ اور اوفامعاہدوں میں کہی گئی باتوں کی بس یاد دلا رہا ہے۔ اوفا میں دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات کے لئے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ طے ہوا تھا کہ اس بات چیت کی خاطر مناسب ماحول پیدا کرنے کے لئے قومی سلامتی کے مشیر، بی ایس ایف اور فوجی آپریشن ڈائریکٹر جنرل سطح پر بات چیت ہوگی اور ان کا ایجنڈا بھی اسی وقت طے کر دیا گیا تھا۔

ادھرم قومی سلامتی کے پاکستانی مشیر سرتاج عزیز نے اس استدلال کے ساتھ کہ ہندستان اور پاکستان دونوں قیام امن کے لئے مشترکہ طور پر ذمہ دار ہیں ، آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہندستان کے ساتھ اس وقت تک سنجیدہ بات چیت ممکن نہیں جب تک  مسئلہ کشمیر اس میں شامل نہیں ہوگا ۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ وہ کسی پیشگی شرط کے بغیر کل ہندستان جانے کو تیار ہیں۔

اپنے ہندستانی ہم منصب اجیت ڈوول سے طے شدہ ملاقات سے قبل حریت رہنماوں اور کشمیر کے تعلق سے متضاد مواقف کے سبب پیدا شدہ ماحول میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر عزیز نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہندستان کا موقف یہ ہے کہ اس کی شرطوں پر اورکشمیر کو چھوڑ کر دیگر امور پربات چیت کی جائے اور یہ ہمارے لئے ممکن نہیں ۔

 انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ پچھلے سال ہندستان نے اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات جس حوالے سے منسوخ کی تھی اگر اس بار بھی ایسا ہوتا ہے تو یہ افسوسناک ہوگا۔ ان کا واضح اشارہ حریت رہنماوں سے ملاقات اور کشمیر کی طرف تھا ۔

مسٹر عزیز نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہ پاکستان نے طے شدہ ایجنڈے سے کہیں انحراف کیا ہے ،کہا کہ پاکستان نے تمام دیرینہ امور پر بات چیت کی صورتیں وضع کرنے کا جائزہ لینے سمیت جو تین نکاتی ایجنڈہ پیش کیا ہے وہ عین اوفا مفاہمت کے مطابق ہے جو کشمیر کے مسئلے کا بھر پور احاطہ کرتا ہے۔ اس لحاظ سے ہندستان کا یہ دعویٰ صحیح نہیں کہ ایجنڈے میں کشمیر شامل نہیں تھا ۔

Loading...