محض ایک گھنٹے میں ہی ختم ہوگئی حریت لیڈروں کی نظربندی

دہلی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 23 اگست کو ہونے والے قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) سطح کے مذاکرات سے پہلے اپنے گھروں میں نظربند کئے گئے سینئر کشمیری علاحدگی پسند لیڈروں کی نظربندی جمعرات کو ایک ہی گھنٹے میں ختم ہو گئی ۔ تاہم سید علی شاہ گیلانی کو اب بھی نظربند رکھا گیا ہے

Aug 20, 2015 05:36 PM IST | Updated on: Aug 20, 2015 05:43 PM IST
محض ایک گھنٹے میں ہی ختم ہوگئی حریت لیڈروں کی نظربندی

سری نگر:  دہلی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 23 اگست کو ہونے والے قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) سطح کے مذاکرات سے پہلے  اپنے گھروں میں نظربند کئے گئے سینئر کشمیری علاحدگی پسند لیڈروں کی نظربندی جمعرات کو ایک ہی گھنٹے میں ختم ہو گئی ۔ تاہم سید علی شاہ گیلانی کو اب بھی نظربند رکھا گیا ہے ۔

کشمیری علاحدگی پسند لیڈروں کو پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کے ساتھ مجوزہ ملاقات سے پہلے نظر بند کیا گیا تھا، لیکن ایک گھنٹے کے اندر اندر ہی ان کی نظر بندی ختم کر دی گئی ۔

کشمیری علاحدگی پسند لیڈروں نے بدھ کو کہا تھا کہ ہندوستان میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے انہیں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی قومی سلامتی کے مشیر کے سطح کے مذاکرات سے قبل پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز سے ملاقات کے لئے مدعو کیا ہے ۔

حریت کے اعتدال پسند دھڑے کے صدر میر واعظ عمر فاروق کو صبح میں ان کی رہائش گاہ میں نظربند کیا گیا تھا ۔  میر واعظ عمر فاروق کے سیکرٹری شاہد الاسلام نے بتایا کہ پولیس کی ایک ٹیم میر واعظ کی رہائش گاہ پر پہنچی اور انہیں آج (جمعرات) صبح نظر بند کر دیا ۔ دیگر سینئر لیڈر مولانا عباس انصاری کو بھی نظربند رکھا گیا ۔ پولیس نے علی الصبح حریت لیڈر جاوید احمد میر اور میری رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا ۔

Loading...

بنیاد پرست علاحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی بھی شہر کے بالائی حصے میں واقع اپنی رہائش حیدر پورہ میں نظربند تھے  ۔  گیلانی نے فون پر بتایا تھا کہ میں بیمار ہوں ، مجھے سینے میں تکلیف ہے اور میں اس سال 17 اپریل سے گھر میں نظربند ہوں ۔

وہیں  جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جےكےایل ایف) کے صدر یاسین ملک نے کہا کہ پولیس نے انہیں سرینگر میں واقع ان کی رہائش گاہ میسوما سے گرفتار کیا اور كوٹھی باغ پولیس تھانے لے گئی ۔

Loading...