کیرالہ بھون بیف تنازعہ: ہندو سینا کے صدروشنو گپتا پولیس حراست میں

نئی دہلی۔ کیرالا بھون میں مبینہ طور پر گائے کا گوشت پیش کئے جانے کی پولیس سے شکایت کرنے والے ہندو سینا کے صدر وشنو گپتا کو آج پولیس نے حراست میں لےلیا ہے۔

Oct 28, 2015 03:46 PM IST | Updated on: Oct 28, 2015 03:50 PM IST
کیرالہ بھون بیف تنازعہ: ہندو سینا کے صدروشنو گپتا پولیس حراست میں

نئی دہلی۔  کیرالہ بھون میں مبینہ طور پر گائے کا گوشت پیش کئے جانے کی پولیس سے شکایت کرنے والے ہندو سینا کے صدر وشنو گپتا کو آج پولیس نے حراست میں لےلیا ہے۔

نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس جتن نروال نے بتایا کہ گپتا کو تعزیرات ہند کی دفعہ 182 کے تحت سرکاری ملازمین کو جھوٹی اطلاع دے کر اس کے قانونی اختیار کا استعمال کسی اور کو نقصان پہنچانےکے ارادے سے کئےجانےکے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گپتا کے خلاف آگے کی کارروائی اس سے پوچھ گچھ کی بعد کی جائے گی۔ گپتا کو آج صبح تلک نگر علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ کیرالہ بھون کے واقعہ کے سلسلہ میں زبردست تنازعہ پیدا ہونے اور یہ بات سامنے آنے کے بعد کہ وہاں گائے کا گوشت نہیں پیش گیا تھا، گپتا اس ڈر سے فرار ہوگیا تھا کہ کہیں اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوجائے۔

گپتا نے پیر کی شام تقریباً سوا چار بجے پولیس کنٹرول روم میں فون کرکےیہ شکایت کی تھی کہ کیرالہ بھون کینٹین میں گائے کا گوشت پیش کیا جا رہا ہے۔ اطلاع ملتےہی پولیس کی ایک ٹیم نے فوراً کیرالہ بھون پہنچ کر پوچھ گچھ کی تھی۔ اس دوران یہ پتہ چلا کہ وہاں گائے کا گوشت نہیں بلکہ بھینسے کا گوشت پیش کیا گیا تھا جس کے لئے مینو میں بیف لکھا ہوا تھا۔

پولیس کے کیرالہ بھون میں بغیر اجازت داخل ہونے کے سبب زبردست تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ کیرالہ کے وزیر اعلی اومن چانڈی نے اس پر سخت اعتراض کیا اور دہلی پولیس کی اس کارروائی کیلئے وزارت داخلہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کئے جانے کی بات کہی ہے۔ دریں اثنا دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسی نےپولیس کا دفاع کرتےہوئےکہا ہےکہ پولیس کیرالہ بھون میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے سے روکنے گئی تھی اور یہ کارروائی غلط نہیں تھی۔ پی سی آر کال پر کارروائی کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔

Loading...

Loading...