بیف کے شک میں دہلی پولیس کا کیرالہ بھون پرچھاپہ، سیاسی پارٹیوں نے کی مذمت

نئی دہلی۔ ملک بھر میں بیف پر جاری ہنگامہ آرائی کے درمیان ماحول ایک بار پھر گرم ہوتا نظر آ رہا ہے۔

Oct 27, 2015 03:27 PM IST | Updated on: Oct 27, 2015 03:30 PM IST
بیف کے شک میں دہلی پولیس کا کیرالہ بھون پرچھاپہ، سیاسی پارٹیوں نے کی مذمت

نئی دہلی۔ ملک بھر میں بیف پر جاری ہنگامہ آرائی کے درمیان ماحول ایک بار پھر گرم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ واقعہ دہلی کا ہے جہاں کیرالہ بھون میں بیف کھلائے جانے کی افواہ سے ہنگامہ مچ گیا۔ کال آنے کے بعد دہلی پولیس فوری طور پر حرکت میں آ گئی اور کیرالہ بھون پہنچی۔ انکوائری کے بعد دہلی پولیس کے حکام نے کینٹین کے مینو سے بیف کری کا آپشن ہٹا دیا ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ کیرالہ کے وزیر اعلی اومن چانڈی نے پولیس کی کارروائی کو لے کر ناراضگی ظاہر کی ہے۔

کیرالہ کے وزیر اعلی اومن چانڈی نے کہا کہ دہلی پولیس نے جو کچھ کیا وہ غلط ہے۔ کیرالہ بھون کوئی تجارتی بھون نہیں ہے۔ اگر کیرالہ بھون میں بیف کھلائے جانے کی اطلاع ملی تھی، یا شکایت تھی تو اس کے لئے ایک طریقہ کار ہے جس پر عمل کیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس منمانی کر رہی ہے۔

وہیں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اومن چانڈی کے اس بیان کی حمایت کرتے ہوئے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیرالا ہاؤس کوئی پرائیویٹ ہوٹل نہیں ہے۔ اسے ایک ریاست کی طرف سے قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھینس کے گوشت پر دہلی میں پابندی نہیں ہے۔ دہلی پولیس کا اس واقعہ کو بڑھانا اس کے متعصبانہ رویہ کو ظاہر کرتا ہے۔ دہلی پولیس بی جے پی کی فوج کی طرح کام کر رہی ہے۔

جبکہ کانگریس لیڈر سندیپ دکشت نے بھی کہا کہ اگر بھینس کے گوشت پر دہلی پولیس سے شکایت کی گئی تو اس میں کیا ہے۔ بھینس کے گوشت پر کوئی پابندی نہیں ہے، وہ تو ہر جگہ بنتا ہے۔ سندیپ دکشت نے پولیس ایکشن پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس بات پر اگر کوئی ہنگامہ کرتا ہے تو پولیس کو ایسے لوگوں کو مار پیٹ کر بھگا دینا چاہئے۔

Loading...

کانگریس لیڈر ٹام وڈككن نے کہا کہ انہوں نے کیرالہ ہاؤس میں کئی بار کھانا کھایا اور انہیں کبھی بھی وہاں بیف سرو نہیں کیا گیا۔ دہلی پولیس ہندو سینا کے اشارے پر مورل پولیسنگ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہلی میں ریاستوں کے بھون پر اس طرح کے حملے ہوتے رہے تو اس سے وفاقی ڈھانچہ متاثر ہو گا۔ وزیر داخلہ اور وزیر اعظم کو اس واقعہ پر کارروائی کرنی چاہئے۔

بتا دیں کہ کیرالہ بھون کی کینٹین میں بیف کھلائے جانے کو لے کر ہندو سینا کے لیڈر وشنو گپتا نے دہلی پولیس سے شکایت کی تھی۔ شکایت ملنے کے بعد دہلی پولیس کے 20 افسران نے موقع پر جاکر الزامات کی جانچ کی تھی۔ پولیس کے مطابق، ان کے پاس شام تقریبا سوا چار بجے فون کال کے ذریعے شکایت درج کرائی گئی۔ فون کرنے والے نے خود کو ہندو سینا کا لیڈر بتایا تھا۔ کسی بھی طرح کی انہونی ہونے سے پہلے ہی پولیس محتاط ہو گئی اور فوری طور پر کیرالہ بھون پہنچ گئی۔

Loading...