پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ: بیوی اور 2 سال کی بیٹی چھوڑ گئے شہید نرنجن

نئی دہلی۔ جوانوں کی شہادت کے لحاظ سے پٹھان کوٹ حملے سے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

Jan 04, 2016 01:04 PM IST | Updated on: Jan 04, 2016 01:08 PM IST
پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ: بیوی اور 2 سال کی بیٹی چھوڑ گئے شہید نرنجن

نئی دہلی۔ جوانوں کی شہادت کے لحاظ سے پٹھان کوٹ حملے سے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ پٹھان کوٹ میں فضائیہ کے اڈے پر دہشت گردانہ حملے میں ملک نے 7 جوان کھو دیئے ہیں۔ ان میں این ایس جی کے ایک لیفٹیننٹ کرنل، ایک گروڑ کمانڈو اور پانچ ڈیفنس سیکورٹی کور (ڈی ایس سی) کے جوان شامل ہیں۔ نایک گرسیوک سنگھ، لیفٹیننٹ کرنل نرنجن، کیپٹن فتح سنگھ، حولدار گلبنت سنگھ، حولدار جگدیش سنگھ، جوان سنجیو کمار اور گریشور كرپور اس حملے میں شہید ہوئے۔

داخلہ سکریٹری راجیو مہرشی نے بتایا کہ اتوار کی شام تک ایئر فورس کے آٹھ اور این ایس جی کے 12 جوان زخمی ہوئے ہیں۔ ایک زخمی جوان کی حالت کافی سنگین ہے۔ این ایس جی کمانڈو نرنجن اپنی ٹیم کے پانچ لوگوں کے ساتھ ایک خودکش دہشت گرد کی لاش میں لپٹے دھماکہ خیز مواد کو غیر فعال کرنے کی کوشش میں شہید ہوئے۔ کرنل نرنجن کیرالہ میں پلكڑ منارككڈ کے تھے۔ نرنجن اپنے پیچھے بیوی رادھیکا اور دو سال کی بیٹی کو چھوڑ گئے ہیں۔

Loading...

پٹھان کوٹ میں ائیر بیس کیمپ پر ہوئے دہشت گردانہ حملے میں انبالہ کے ایک جوان گرسیوک سنگھ بھی شہید ہو گئے ہیں۔ 24 سال کے گرسیوک انبالہ کے گرنالا گاؤں کے رہنے والے تھے اور ان کی گزشتہ 18 نومبر کو ہی شادی ہوئی تھی۔ گرسیوک کے بڑے بھائی ہردیپ بھی ہندستانی فوج میں ہیں اور دھرم شالہ میں تعینات ہیں۔ اس دکھ کی گھڑی میں خاندان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے ملک کے لئے شہادت دی ہے یہ ان کے لئے فخر اور خوشی کی بات ہے۔ ہریانہ حکومت نے گرسیوک کے گھر والوں کو 20 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

ابھی تک کسی دہشت گردانہ حملے میں این ایس جی کے ایک ساتھ اتنے کمانڈوز زخمی نہیں ہوئے ہیں۔ دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات ہسپتال میں علاج کرا رہے ڈیفنس سیکورٹی کارپس (ڈی ایس سی) کے تین جوانوں نے بھی دم توڑ دیا۔ نرنجن کے جسد خاکی کو دہلی سے بنگلور لے جایا گیا ہے۔

پٹھان کوٹ ائیر بیس پر دہشت گردوں سے تصادم میں شہادت دینے والوں میں این ایس جی کمانڈو لیفٹیننٹ کرنل نرنجن ای کمار کے گھر میں ماتم چھایا ہے۔ ان کی زندگی کی کہانی سناتے ہوئے ان کی بڑی بہن نے انہیں ارجن بتایا۔ بہن نے کہا، 'نرنجن 4 سال کا تھا، تب ہم نے ماں کو کھو دیا تھا۔ اس وقت بڑی مشکل سے ہم سب کا بچپن گزرا۔ ملک اسے صرف جانباز شہید ہی نہیں بلکہ ایسے نوجوان کے طور پر یاد رکھے، جس نے اپنا خواب پورا کرنے کے لئے کافی جدوجہد کی۔

نرنجن بنگلور میں رہتے تھے۔ ان کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ بنگلور سے ان کے جسد خاکی کو سڑک کے راستے پلكڑ لایا جائے گا، جسے آخری دیدار کے لئے یہاں ایک اسکول میں رکھا جائے گا۔ وزیر اعلی اومن چانڈی بھی شہید کرنل کی آخری رسوم میں شامل ہوں گے۔

 

Loading...