پٹھان کوٹ حملہ:دہشت گردوں نے پاکستانی اسلحہ استعمال کیا: وزیر دفاع

پٹھان کوٹ۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر نے آج اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پٹھان کوٹ کے فضائی اڈے پر ہوئے حملہ میں دہشت گردوں نے پاکستانی ساخت کا اسلحہ استعمال کیا تھا۔

Jan 05, 2016 06:35 PM IST | Updated on: Jan 05, 2016 07:01 PM IST
پٹھان کوٹ حملہ:دہشت گردوں نے پاکستانی اسلحہ استعمال کیا: وزیر دفاع

پٹھان کوٹ۔  وزیر دفاع منوہر پاریکر نے آج اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پٹھان کوٹ کے فضائی اڈے پر ہوئے حملہ میں دہشت گردوں نے پاکستانی ساخت کا اسلحہ استعمال کیا تھا۔

انہوں نے کھل کر بعض کوتاہیوں کا اعتراف کیا مگر فورا ہی یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی مرحلے پر سیکورٹی سے سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔

فضائیہ کے سربراہ اروپ راہا اور دیگر اعلی سیکورٹی افسران کے ساتھ ہندوستانی فضائیہ کے اڈے کا سروے کرنے کے بعد پاریکر نے میڈیا والوں کو بتایا کہ سلامتی ایجنسیوں کو اس بات کے سراغ ملے ہیں کہ یہ دہشت گرد کیسے اور کہاں سے داخل ہوئے تھے۔ این آئی اے اس کی مزید جانچ کرے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اصل انکاؤنٹر 28 گھنٹہ چلا جس کے دوران تمام چھ دہشت گرد مارے گئے جبکہ سلامتی دستوں کے ساتھ جوانوں کی جانیں چلی گئیں ۔ان میں دو کمانڈوز بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا ’’دہشت گردوں کی ڈی این اے جانچ کی جائے گی تاکہ ان کی شناخت کی جاسکے۔ دو لاشیں دو کونوں میں ٹکڑوں میں ملی ہیں۔ وزیردفاع نے بار بار اس پر توجہ دلائی کہ ناگزیر دہشت گردانہ حملہ کے بارے میں کافی باوثوق اطلاعات ملنے کے باوجود اتنے بڑے فضائی اڈے کو کھنگالنا آسان نہیں تھا جو 25 کلومیٹر رقبہ پر محیط ہے اور وہاں تین ہزار کی آبادی بھی رہتی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کو غیر فوجی حصہ تک محدود رکھنے کے لئے سلامتی دستوں کی بے حد تعریف کی۔ انہوں نے جانی نقصان سے بچنے کے لئے انہیں ایک ایک کرکے الجھا کر دور رکھا۔ مسٹر پاریکر نے اعلان کیا کہ شہیدوں کو جنگ میں شہیدوں کا درجہ دیا جائے گا اور انہیں جنگ جیسی صورت حال کے تمام فائدے بھی دیئے جائیں گے۔

Loading...

انکاؤنٹر کے مقام سے ملنے والے اسلحہ کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردوں کے پاس اے کے رائفلیں انڈر بیرل بندوقیں اور 40 سے 50 کلو گولیاں تھیں۔

مسٹر پاریکر نے کہا کہ تلاشی کی مہم کو مکمل ہونے میں ابھی مزید وقت لگے گا کیونکہ یہ احاطہ بہت وسیع وعریض ہے اور سلامتی دستہ کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے۔ وہ فضائی اڈے کا چپہ چپہ چھان ماریں گے تاکہ اسے مکمل طور سے محفوظ قرار دیا جاسکے۔

Loading...