پٹھان کوٹ حملہ : حملے سےقبل دہشت گردوں نے پاکستان میں اپنے آقاؤں واہل خانہ سے بات چیت کی تھی

پٹھان کوٹ: میں مرنے جا رہا ہوں۔ ہم پٹھان کوٹ پہنچ چکے ہیں۔یہ باتیں دہشت گردوں کی پاکستان میں اپنے آقاؤں اور خاندان والوں سے موبائل فون پر ہوئی تھی۔ یہ اس بات چیت کا حصہ ہے جوانہوں نے ایئر فورس بیس پر حملے سے پہلے کی تھی۔

Jan 02, 2016 05:49 PM IST | Updated on: Jan 02, 2016 05:49 PM IST
پٹھان کوٹ حملہ : حملے سےقبل دہشت گردوں نے پاکستان میں اپنے آقاؤں واہل خانہ سے بات چیت کی تھی

پٹھان کوٹ: میں مرنے جا رہا ہوں۔ ہم پٹھان کوٹ پہنچ چکے ہیں۔یہ باتیں دہشت گردوں کی پاکستان میں اپنے آقاؤں اور خاندان والوں سے موبائل فون پر ہوئی تھی۔ یہ اس بات چیت کا حصہ ہے جوانہوں نے ایئر فورس بیس پر حملے سے پہلے کی تھی۔

انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے ٹریس کی گئی کال کے مطابق دہشت گردوں نے پٹھان کوٹ پہنچنے پر پاکستان میں مختلف نمبروں پر صبح 12.35 سے 1.45 بجے تک موبائل فون پر چار بار بات چیت کی۔

ایک دہشت گرد نے 12.37 بجے پاکستان میں اپنے خاندان کو فون کرکے کہاکہ میں مرنے جا رہا ہوں۔دوسری طرف سے جواب آيا کہ کچھ کھا پی لو اور پھر اپنے مشن کے لئے آگے بڑھو۔یہ اس بات کا واضح ثبو ت ہے دہشت گردوں کا کس قدر برین واش کیا گیا تھا۔

ایک دہشت گرد نے 12.54 بجے اپنے آقاؤں کو پاکستان میں فون کرکے پٹھان کوٹ پہنچنے کی ا طلاع دی تھی جبکہ دوسری طرف سے دہشت گرد کو اپنے ہدف پر پہنچنے کے بعد دوبارہ فون کرنے کی ہدایت دی گئی۔ دہشت گردوں کی موبائل پر کی گئی کال پٹھان کوٹ ایئر فورس بیس پر ہوئے حملے میں پاکستان کا ہاتھ ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔

Loading...

اس سے قبل ان دہشت گردوں نے جمعہ کو بھی پاکستان میں موبائل فون پر دو بار بات چیت کی تھی اس سے یہ بھی صاف ہے کہ وہ کچھ دنوں سے ہندوستانی علاقے میں ہی تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ دہشت گرد پاکستان کے بہاول پور علاقے سے آئے تھے۔

Loading...