پٹھان کوٹ کیس میں نیا انکشاف ، 31 دسمبر سے پہلے کبھی درگاہ نہیں گئے ایس پی سلوندر سنگھ

پٹھان کوٹ : پنجاب کے پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے سے پہلے گرداس پور کے ایس پی سلوندر سنگھ کے اغوا کئے جانے کے دعوے سے وابستہ ایک بڑا انکشاف ہوا ہے۔ اب تک سلوندر سنگھ کا کہنا تھا کہ وہ اکثر ہی درگاہ جاتے رہتے ہیں ، مگر پنج پير درگاہ کے ناظم سوم نے سلوندر کی باتوں کو خارج کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ درگاہ آئے تھے۔ 31 دسمبر سے پہلے ایس پی سلوندر سنگھ کبھی درگاہ پر ماتھا ٹیکنے نہیں آئے۔

Jan 06, 2016 06:25 PM IST | Updated on: Jan 06, 2016 06:25 PM IST
پٹھان کوٹ کیس میں نیا انکشاف ، 31 دسمبر سے پہلے کبھی درگاہ نہیں گئے ایس پی سلوندر سنگھ

پٹھان کوٹ : پنجاب کے پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے سے پہلے گرداس پور کے ایس پی سلوندر سنگھ کے اغوا کئے جانے کے دعوے سے وابستہ ایک بڑا انکشاف ہوا ہے۔ اب تک سلوندر سنگھ کا کہنا تھا کہ وہ اکثر ہی درگاہ جاتے رہتے ہیں ، مگر پنج پير درگاہ کے ناظم سوم نے سلوندر کی باتوں کو خارج کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ درگاہ آئے تھے۔ 31 دسمبر سے پہلے ایس پی سلوندر سنگھ کبھی درگاہ پر ماتھا ٹیکنے نہیں آئے۔

ناظم نے بتایا کہ 31 دسمبر کی صبح 8.30 بجے ایس پی سلوندر سنگھ کے دوست راجیش ورما اور باورچی مدن یہاں آئے تھے۔ وہ تقریبا ایک گھنٹے تک یہاں ٹہلتے رہے، ماتھا ٹیكا اور پھر چلے گئے۔ ناظم نے بتایا پھر اسی رات کو جب درگاہ بند ہونے کا وقت ہو رہا تھا ، تو تقریبا 8:30 بجے خود ایس پی نے ناظم سوم کو پہلی مرتبہ فون کیا اور درگاہ کھلا رکھنے کیلئے کہا۔

ناظم کے مطابق میں نے انہیں کہا بھی کہ درگاہ بند ہونے کا وقت ہو گیا ہے پھر بھی ایس پی نہیں مانے اور درگاہ کھلا رکھنے کیلئے کہا۔ رات 9 بجے ایس پی درگاہ پہنچے اور آدھے گھنٹے بعد 9:30 بجے چلے گئے۔ ان کے ساتھ تین لوگ اور تھے۔ بتا دیں کہ ایس پی نے کہا تھا کہ 31 دسمبر کو ان کے ساتھ دوست راجیش اور باورچی مدن گوپال درگاہ گئے تھے۔

قبل ازیں منگل کو آئی بی این 7 سے بات کرتے ہوئے ایس پی سلوندر سنگھ نے دعوی کیا تھا کہ دہشت گردوں نے ان کو اس وقت اغوا کرلیا تھا ، جب وہ 31 دسمبر کی رات درگاہ سے واپس آ رہے تھے۔ یہاں پر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایس پی سلوندر سنگھ بارڈر کے قریب انتہائی حساس علاقے میں ٹیرر الرٹ ہونے کے بعد بھی اکیلے کیوں گئے ، جبکہ وہاں سے دو سڑکیں نکلتی ہیں۔ ایک سڑک جموں کے كٹوعہ سے آتی ہے ، جو مین سڑک ہے اور كٹوعہ سے صرف 8 کلومیٹر دور ہے ، لیکن انہوں نے طویل اور ویران راستہ منتخب کیا۔

Loading...

Loading...