شک کے گھیرے میں آئے ایس پی بلوندر، کیا ہنی ٹریپ میں پھنس کر بنے مددگار؟

نئی دہلی۔ پٹھان کوٹ کے دہشت گردانہ حملے کے بعد گرداس پور کے ایس پی سلوندر سنگھ شک کے گھیرے میں گھر گئے ہیں۔

Jan 06, 2016 09:39 AM IST | Updated on: Jan 06, 2016 09:40 AM IST
شک کے گھیرے میں آئے ایس پی بلوندر، کیا ہنی ٹریپ میں پھنس کر بنے مددگار؟

نئی دہلی۔ پٹھان کوٹ کے دہشت گردانہ حملے کے بعد گرداس پور کے ایس پی سلوندر سنگھ شک کے گھیرے میں گھر گئے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ وہ ہنی ٹریپ میں پھنس کر پاکستان کے دہشت گردوں کے مددگار بنے اور دہشت گردوں کو ائیر بیس تک پہنچایا۔ این آئی اے اس معاملے میں تحقیقات کر رہی ہے اور سلوندر سمیت ان کے دوست راجیش ورما اور ایس پی کے کک سے پوچھ گچھ کی ہے۔ کل این آئی اے کی ٹیم نے پورے بارڈر کے علاقے کا دورہ کیا جہاں جہاں سے دہشت گرد گزرے تھے۔

ذرائع کے مطابق، ایس پی سلوندر سنگھ نے دہشت گردوں کو ائیر بیس تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ دراصل جس طرح دہشت گردوں نے سلوندر سنگھ کو چھوڑ دیا جبکہ سلوندر سے پہلے دہشت گردوں نے ایک ڈرائیور کو مار دیا تھا۔ اسی بات کو لے کر این آئی اے کو سلوندر پر شک ہو گیا ہے۔ اب این آئی اے جاننا چاہتی ہے کہ آخر ایس پی سلوندر سنگھ اتنی رات کو پنج پیر کیوں گئے تھے۔

Loading...

سوال یہ بھی ہیں کہ بارڈر کے قریب انتہائی حساس علاقے میں ایس پی اکیلے کیوں گھوم رہے تھے؟ کیا ان کی گاڑی میں کسی طرح کا وائرلیس فون وغیرہ نہیں تھا؟ اگر گاڑی سرکاری نہیں تھی تو اس پر نیلے رنگ کی بتی کیوں لگی تھی؟ ایسے کئی سوال ہیں جن سے پردہ اٹھانے کے لئے این آئی اے ایس پی سلوندر سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے۔

سلوندر سنگھ نے بتایا کہ وہ بغیر وردی کے سرکاری گاڑی سے جا رہے تھے۔ وہ رات کو 11 بجے کے آس پاس واپس لوٹ رہے تھے۔ اسی وقت کچھ لوگوں نے انہیں روک لیا۔ وہ تمام فوج کی وردی میں تھے۔ سلوندر نے کہا کہ ان لوگوں نے ان کی گاڑی کی لائٹ بند کرنے کو کہا اور کار میں زبردستی گھس کر ان کے پیچھے کی طرف پھینک دیا۔ دہشت گردوں نے پھر سلوندر اور ان کے کک کو وہیں چھوڑ دیا اور ایس پی کے دوست راجیش ورما کو ساتھ لے کر آگے نکل گئے۔

تفتیش کار اب بھی اس گتھی میں الجھے ہیں کہ آخر دہشت گردوں نے ایس پی سلوندر اور ان کے ساتھیوں کو چھوڑ کیوں دیا؟ دہشت گردوں نے ایسا اس وقت کیا جب وہ پہلے ایک دوسری گاڑی کو اغوا کر اس ڈرائیور کو مار چکے تھے۔ سلوندر سنگھ کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ پولیس کی وردی میں نہیں تھے اور انہوں نے دہشت گردوں کو اپنے عام انسان ہونے کی معلومات ہی دی تھی۔

سلوندر نے کہا کہ جس وقت دہشت گردوں نے ان کا اغوا کیا، وہ پٹھان کوٹ میں ایک خواجہ کی مزار سے گرداس پور واپس آ رہے تھے۔ دیر رات پاکستان بارڈر پر ایس پی کا بغیر کسی حفاظت کے جانا اپنے آپ میں شک پیدا کرتا ہے۔ ایس پی نے کہا کہ وہ مذہبی کام سے گئے تھے اس لئے ہتھیار بھی لے کر نہیں گئے تھے۔ ایس پی اور ان کے دوست کے بیان میں فرق ہے؟ اہم بات یہ ہے کہ سلوندر سنگھ کے ساتھ ان کے دوست راجیش ورما بھی تھے۔

Loading...