جوینائل جسٹس بل پارلیمنٹ میں منظور، اب سولہ سال کے نابالغ پر چلے گا بالغ جیسا کیس

نئی دہلی۔ نربھیا واردات کے بعد ملک میں پیدا ماحول کے مدنظر جوینائل جسٹس(دیکھ ریکھ اور تحفظ) ترمیمی قانون 2015 پر آج پارلیمنٹ نے اپنی مہر لگادی جس سے بھیانک جرائم کے سلسلے میں نوعمروں کو بالغ قراردے کر سزا دینے کی عمر 18برس سے گھٹا کر 16 سال کرنے کا التزام ہے۔

Dec 22, 2015 08:15 PM IST | Updated on: Dec 22, 2015 08:52 PM IST
جوینائل جسٹس بل پارلیمنٹ میں منظور، اب سولہ سال کے نابالغ پر چلے گا بالغ جیسا کیس

نئی دہلی۔  نربھیا واردات کے بعد ملک میں پیدا ماحول کے مدنظر جوینائل جسٹس(دیکھ ریکھ اور تحفظ) ترمیمی قانون 2015 پر آج پارلیمنٹ نے اپنی مہر لگادی جس سے بھیانک جرائم کے سلسلے میں نوعمروں کو بالغ قراردے کر سزا دینے کی عمر 18برس سے گھٹا کر 16 سال کرنے کا التزام ہے۔ راجیہ سبھا نے تقریباً پانچ گھنٹے کی بحث کے بعد مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے واک آوٹ کے درمیان اس بل کو صوتی ووٹوں سے منظور کردیا جب کہ لوک سبھا اسے پچھلے اجلاس میں ہی منظور کرچکی ہے۔

کانگریس کے راجیو گوڑا نے راجیہ سبھا میں بل میں ایک ترمیم پیش کی جسے ایوان نے صوتی ووٹوں سے مسترد کردیا۔ سی پی ایم کے سیتا رام یچوری نے اس بل کو راجیہ سبھا کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا جس پر ڈپٹی چئیرمین پی جے کورین نے کہا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس  اس بل کو بھیجنے کے سلسلے میں کسی رکن کی ابھی تک کوئی تجویز ان کے پاس نہیں آئی ہے۔ کانگریس کے شانتا رام اور ترنمول کانگریس کے ڈیرک او برائن نے اس سلسلے میں اپنی تجاویزپہلے ہی واپس لے لی ہیں ۔

بل کے مطابق ریاست اور ضلع کی سطح پر خصوصی جووینائل عدالتیں قائم کی جائیں گی اور مقامی سطح پر بچوں سے متعلق جسٹس بورڈ قائم کئے جائیں گے۔ یہ بورڈ نابالغ مجرموں کی بازآبادکاری اور ان کے سدھار کا انتظام کرے گا۔ خواتین کو بااختیار بنانے اور بچوں کی فلاح و بہبود کی وزیر مینکا گاندھی نے کہا کہ ملک میں خواتین کے خلاف بڑھتے تشدد کے پیش نظر ہر گاؤں میں ایک عورت کو خصوصی پولیس افسر مقرر کیا جائے گا جوگاؤں میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد یا شوہروں کی جانب سے گھریلو تشدد کی اطلاع پولیس کو دیں گی اور ان کی مدد کریں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں اصلاح گھروں کی خراب حالت کو دیکھتے ہوئے ان کو بہتر بنانے کے لئے جانچ کرائی جائے گی اور سوشل آڈٹ بھی کیا جائے گا اور تمام اضلاع میں بنے جووینائل جسٹس بورڈ کو بھی چست درست کیا جائے گا اور وہ باہر کے ماہرین کی بھی مدد لے سكیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تشدد کی شکار خواتین کے لئے ملک میں 660 سٹاپ سینٹر بھی بنائے جائیں گے۔ ابھی 10 مراکز بنائے گئے ہیں اور وہ کام بھی کرنے لگے ہیں۔

Loading...

Loading...