سپریم کورٹ نے ملک کے مفاد میں اعلی تعلیمی اداروں سے ریزرویشن ختم کرنے کیلئے کہا

نئی دہلی : آزادی کے 68 سال بعد بھی کچھ 'مراعات کے تبدیل نہ ہونے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ قومی مفادات میں اعلی تعلیمی اداروں سے ہر نوعیت کے ریزرویشن کو ختم کردیا جانا چاہئے۔

Oct 28, 2015 05:24 PM IST | Updated on: Oct 28, 2015 05:24 PM IST
سپریم کورٹ نے ملک کے مفاد میں اعلی تعلیمی اداروں سے ریزرویشن ختم کرنے کیلئے کہا

نئی دہلی : آزادی کے 68 سال بعد بھی کچھ 'مراعات کے تبدیل نہ ہونے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ قومی مفادات میں اعلی تعلیمی اداروں سے ہر نوعیت کے ریزرویشن کو ختم کردیا جانا چاہئے۔ عدالت عظمی نے مرکزی حکومت سے منصفانہ ہو کر اس معاملہ پر فیصلہ کرنے کو بھی کہا ہے۔

انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق جسٹس دیپک مشرا اور پی سی پنت کی ایک بنچ نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ سپر اسپیشلیٹی کورسوں میں داخلہ کے لئے میرٹ کو پہلی کسوٹی بنائے جانے کی بات مرکز اور ریاستی حکومتوں کو بار بار یاد دلانے کے باوجود زمینی سطح پر اس پر عمل نہیں ہوسکا ہے۔

بنچ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'امید اب بھی امید ہی ہے۔ اگر موازنہ کیا جائے ہو تو مراعات یافتہ طبقے کے لوگوں کے حالات اب بھی نہیں بدلے ہیں۔ بنچ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ 1988 میں سپریم کورٹ کے دو فیصلوں سے وہ پوری طرح اتفاق کرتا ہے۔

ان دو کیسوں میں میڈیکل انسٹی ٹيوشن سپر اسپیشلیٹیکورسز میں ریزرویشن پر سپریم کورٹ نے کہا کہ اصل میں تو ایسی جگہوں پر تو ریزرویشن ہونا ہی نہیں چاہئے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اعلی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے ملک کے مفاد میں ایسا ضروری ہو گیا ہے۔ کورٹ نے ہندوستان کے عوام کو ملنے والی صحت کی خدمات کی بہتری کے لئے بھی اس کی ضرورت پر زور دیا ۔

Loading...

فیصلے میں کہا گیا کہ ہم امید کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ مرکز اور ریاست کی حکومتیں اس پر کسی تاخیر کے بغیر غور وخوض کریں گی اور گائڈلائن تیار کریں گی۔

سپریم کورٹ نے 27 سال پہلے دیے گئے فیصلے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو دوبارہ وہیں پیغام دیتی ہے۔ کورٹ نے آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو میں سپر اسپیشلیٹیکورس میں داخلہ میں دی جانے والی چھوٹ کو چیلنج دینے والی درخواستوں پر یہ تبصرہ کیا۔

Loading...