سشما سوراج کا پاکستان کو دو ٹوک جواب ، پاکستان اگر بضد رہا ہو نہیں ہوسکتی بات چیت

ندوستان نے آج واضح کر دیا کہ اگر پاکستان کشمیر کے مسئلے کو اٹھانے اور حریت رہنماوں سے ملنے کی بات پر اڑا رہا تو دونوں ممالک کے درمیان قومی سلامتی کے مشیران (این ایس اے)کی سطح کی بات چیت نہیں ہو سکتی

Aug 22, 2015 05:41 PM IST | Updated on: Aug 22, 2015 05:41 PM IST
سشما سوراج کا پاکستان کو دو ٹوک جواب ، پاکستان اگر بضد رہا ہو نہیں ہوسکتی بات چیت

نئی دہلی  : ہندوستان نے آج واضح کر دیا کہ اگر پاکستان کشمیر کے مسئلے کو اٹھانے اور حریت رہنماوں سے ملنے کی بات پر اڑا رہا تو دونوں ممالک کے درمیان قومی سلامتی کے مشیران (این ایس اے)کی سطح کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اگر بات چیت کا دائرہ دہشت گردی تک محدود رکھنے اور حریت کو اس میں فریق نہیں بنانے کی یقین دہانی کراتے ہیں تو ان کا بات چیت کے لئے یہاں خیر مقدم ہے۔بصورت دیگر اگر وہ کشمیرکا مسئلہ اٹھانے اور حریت کو درمیان میں لانے کی بات کرتے ہیں تو بات چیت نہیں ہو سکتی۔

اس سے پہلے مسٹر عزیز نے اسلام آباد میں اپنے پریس کانفرنس میں پاکستان کا یہ موقف دہرایا تھا کہ این ایس اے کی سطح کی ملاقات میں دہشت گردی کے علاوہ جموں -كشمير کا مسئلہ رہنا ضروری ہے. ساتھ ہی انہوں نے حریت رہنماؤں سے ملنے کا اپنا ارادہ بھی بار بار ظاہر کیا تھا۔محترمہ سوراج نے کہا کہ ہم پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کو دہشت گردی کے مسئلے سے رجوع کرنے تک محدود رکھے ، ہم بات چیت کے لئے ان(عزیز) کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ جامع مذاکرات قومی سلامتی کے مشیروں کی سطح پر نہیں ہو سکتے۔’’آپ آنے کے لئے تیار ہیں توہم آپ کا استقبال کرنے کے لئے تیار ہیں۔ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ شملہ اور اوفا معاہدوں کی روح کا احترام کریں ‘‘-

ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اب بھی کل کی قومی سلامتی کے مشیروں کی سطح کی ملاقات کے بارے میں پرامید ہیں۔پاکستان کے پاس اب بھی فیصلہ کرنے کے لئے چند گھنٹے ہیں۔

Loading...

Loading...