ملک میں بڑھتے فرقہ وارانہ واقعات کے خلاف ادیبوں کے احتجاج کو فنکاروں کی بھی حمایت

نئی دہلی۔ ملک میں فرقہ وارانہ واقعات میں اضافہ اور عدم رواداری کی مخالفت میں مصنفین کی طرف سے ایوارڈ واپس کئے جانے کے معاملے کی حمایت میں اب ملک کے ممتاز مصوراور رنگ منچ سے منسلک قدآور شخصیات بھی سامنے آ گئی ہیں ۔

Oct 28, 2015 03:33 PM IST | Updated on: Oct 28, 2015 03:33 PM IST
ملک میں بڑھتے فرقہ وارانہ واقعات کے خلاف ادیبوں کے احتجاج  کو فنکاروں کی بھی حمایت

نئی دہلی۔ ملک میں فرقہ وارانہ واقعات میں اضافہ اور عدم رواداری کی مخالفت میں مصنفین کی طرف سے ایوارڈ واپس کئے جانے کے معاملے کی حمایت میں اب ملک کے ممتاز مصوراور رنگ منچ سے منسلک قدآور شخصیات بھی سامنے آ گئی ہیں اور تقریبا تین سو سے زیادہ مصور،مختلف فنون سے جڑی شخصیات، آرٹ ماہرین و رنگ منچ و ڈرامے سے منسلک افراد نے مصنفین کی تحریک کی حمایت کی ہے۔

سہمت کے کنوینر راجندر پرساد نے ’يواین آئی ‘کو بتایا کہ کرشنا کھنہ، کےجی سبرامنیم، این رام چندرن، انجلی ایلا مینن، پرم جیت سنگھ، ویوان سندرم، ارپت سنگھ، ارپنا کور، سوبودھ گپتا جیسے مشہورمصور اور لندن و امریکہ کے متعدد ہندوستانی مؤرخ اور ماہر ین جن میں نمایاں طور سے انورادھا کپور، ایم کے رینا جیسے مشہور رنگ کرمی کے ساتھ ہی رام الرحمن جیسےفوٹوگرافروں نے ملک میں اضافہ ہوتے عدم برداشت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے معاشرے اور قوم کی ترقی کے لئے خطرناک قرار دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے بیشتر افراد یکم نومبر کو ہونے والے مزاحمتی کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر دن کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ضرور پیش آرہا ہے جس سے معاشرے میں کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔ کیرالہ ہاؤس میں بھی یہی ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں آرٹسٹ سامنے آکر احتجاج کر رہے ہیں اور حکومت سے اس پر قابو پانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Loading...

Loading...