آگرہ : سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام سے متعلق قابل اعتراض پوسٹ کے بعد شمس آباد میں فرقہ وارانہ کشیدگی ، حالات قابو میں

آگرہ : سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام سے متعلق قابل اعتراض پوسٹ کرنے کے بعد آگرہ سے تقریبا 20 کلو میٹر کی دوری پر واقع شمس آباد میں حالات کشیدہ مگر قابو میں ہیں ۔

Sep 04, 2015 12:08 PM IST | Updated on: Sep 04, 2015 12:08 PM IST
آگرہ : سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام سے متعلق قابل اعتراض پوسٹ کے بعد شمس آباد میں فرقہ وارانہ کشیدگی ، حالات قابو میں

آگرہ : سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام سے متعلق قابل اعتراض پوسٹ کرنے کے بعد آگرہ سے تقریبا 20 کلو میٹر کی دوری پر واقع شمس آباد میں حالات کشیدہ مگر قابو میں ہیں ۔پولیس کی ٹیم گاوں میں موجود ہے ۔ ڈی آئی جی کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے اگلے 24 گھنٹوں تک حالات پرسخت نگرانی رکھی جائے گی اور پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا ہے ۔

خبروں کے مطابق اکثریتی فرقہ کے ایک نوجوان نے گروپ بناکر واٹس ایپ پر پیغمبر اسلام سے متعلق کچھ قابل اعتراض میسیج بھیجا تھا ۔ کچھ میڈیا کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ فیس بک پر ایک مخصوص مذہب کے خلاف قابل اعتراض مواد شیئر کیا گیا تھا ۔ اس میسیج کی خبر جیسے ہی اقلیتی فرقہ کے لوگوں کو ملی ، ان میں شدید ناراضگی اور بے چینی پھیل گئی ۔ کچھ مشتعل لوگوں نے اس نوجوان کی جم کر پٹائی کردی ۔یہ واقعہ گزشتہ روز پیش آیا ۔

نوجوان کے پٹائی کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں فرقوں کے لوگ آمنے سامنے آگئے اور ایک دوسرے پر جم کر پتھراو کیا۔ فوری طور پر بازار اور دکانیں بھی بند ہوگئیں ۔ پولیس کو مشتعل لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولے داغنے پڑے ۔ جب وہاں موجود پولیس اہلکار حالات پر قابو پانے میں ناکام ہونے لگے تو پھر ڈی آئی جی لکشمی سنگھ اور ایس ایس پی راجیش ڈی موڈک پی اے سی کے جوانوں سمیت مزید پولیس فورس کے ساتھ وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے حالات کو قابو میں کیا ۔

ڈی آئی جی لکشمی کانت نے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو کسی کے مذہب پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا ہے اور اگلے 24 گھنٹوں تک حالات پر گہری نگاہ رکھی جائے گی اور علاقے میں سخت چوکسی برتی جائے گی ۔

Loading...

Loading...