دہلی آئے تو ہوائی اڈے پر ہی حراست میں لے لئے جائیں گے علا حدگی پسند لیڈران

ہندوستان پاکستان کے درمیان این ایس اے سطح کی بات چیت سے پہلے گہما گہمی کے درمیان حکومت کے ذرائع کی طرف سے بڑی خبر سامنے آئی ہے

Aug 21, 2015 04:50 PM IST | Updated on: Aug 21, 2015 04:50 PM IST
دہلی آئے تو ہوائی اڈے پر ہی حراست میں لے لئے جائیں گے علا حدگی پسند لیڈران

نئی دہلی : ہندوستان پاکستان کے درمیان این ایس اے سطح کی بات چیت سے پہلے گہما گہمی کے درمیان حکومت کے ذرائع کی طرف سے بڑی خبر سامنے آئی ہے ۔ ہندوستان کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ حریت لیڈروں کو کسی بھی قیمت پر وادی چھوڑ نے نہیں دیا جائے گا ۔ اگر کسی طرح حریت لیڈر دہلی تک کا سفر کر بھی لیتے ہیں تو انہیں حراست میں لے لیا جائے گا ۔

وہیں  ہندوستان اپنی طرف سے اجلاس ملتوی نہیں کرے گا ۔ 18 اگست کو حکومت ہند کی جانب سے بھیجے گئے ایجنڈے پر ابھی تک پاکستان کا جواب بھی نہیں آیا ہے ۔ ہندوستان پاکستان کے ساتھ این ایس اے سطح کے مذاکرات میں دہشت گردی پر بات چیت کرنا چاہتا ہے، جس میں حکمت عملی سرکاری دہشت گردی کے مسئلے پر پڑوسی ملک کو گھیرنے کی بھی ہوگی  ۔

وہیں پاکستان نے ہندوستان کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے جمعہ کو کہا کہ وہ قومی سلامتی کے مشیر  کے ساتھ ملاقات سے پہلے کشمیر کے حریت رہنماؤں سے مجوزہ ملاقات کے معاملے میں کسی بھی طرح کی ڈھیل کے موڈ میں نہیں ہے ۔ یہ فیصلہ پاکستان کے سیاسی اور فوجی رہنماؤں کی میٹنگ میں لیا گیا ۔ میٹنگ کی صدارت وزیر اعظم نواز شریف نے کی ۔ اس میٹنگ میں پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی شرکت کی ۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق میٹنگ میں کہا گیا کہ کشمیری رہنماؤں سے ملاقات نہ کرنے کی ہندوستان کے مطالبہ کو قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ میں سیاسی اور فوجی قیادت نے یہ طے کیا کہ ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے میں پاکستان، حریت رہنماؤں کو مکمل طور پر اعتماد میں لے گا ۔ ذرائع نے کہا کہ اگرچہ میٹنگ میں یہ بات بھی دہرائی گئی کہ پاکستان تمام مسائل کو بات چیت سے حل کرنے کے حق میں ہے ۔

Loading...

ادھر پاکستان کے اڑیل رویہ کو دیکھتے ہوئے حریت رہنماؤں کے خلاف حکومت مزید سختی برت سکتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق اگر علاحدگی پسند رہنماؤں نے پاکستانی این ایس اے سے ملاقات کرنے کی کوشش کی تو انہیں دوبارہ نظربند کیا جا سکتا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ  آج صبح سے ہی شبیر شاہ کے گھر کے باہر پولیس تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ علاحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی کل سے ہی نظربند ہیں ۔

ایک طرف جہاں حکومت سختی کا مظاہرہ کر رہی ہے تو وہیں حریت لیڈر شبیر شاہ نے صاف کہا کہ وہ مقررہ وقت پر پاکستان کے این ایس اے سے ملاقات کرنے کے لئے دہلی آئیں گے ۔ شبیر شاہ نے کہا کہ اس مرتبہ حکومت بات چیت چاہتی ہے تو ہم سب کو بھی بات چیت میں شامل کرے، ورنہ جنوبی ایشیا میں کبھی بھی امن قائم نہیں ہوگا ۔ اگر بات چیت نہیں کریں گے تو جنگ ہوگی ، دونوں کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہیں ، میں کل صبح ساڑھے 10 بجے اپنی ٹیم لے کر دہلی جا رہا ہوں ۔

ادھر  ذرائع کے مطابق ہندوستان نے صاف کر دیا ہے کہ دہلی میں بات چیت اوفا تجویز کے تحت ہی ہونی چاہئے ، جس میں دہشت گردی کے مسئلے پر بات چیت ہونی تھی ۔ کشمیر مسئلے کا اس تجویز میں کہیں کوئی ذکر نہیں تھا ۔

خیال رہے کہ پاکستان کے این ایس اے سرتاج عزیز اور ہندوستان کے این ایس اے اجیت ڈووال کے درمیان دہلی میں 23-24 اگست کو بات چیت ہونی ہے ۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے ۔

Loading...