ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہر شخص کا جسم اور دماغ سیکس کے بارے میں ایک طرح سے ردعمل نہیں کرتا

ایکسائیٹیڈ ہونے کے دو پہلو ہیں۔ جسمانی اور ذہنی۔ جسمانی محرک میں عضو تناسل متحرک ہوجاتا ہے اور خون کی گردش ہونے کی وجہ سے اس کا سائز بڑا ہو جاتا ہے جبکہ اندام نہانی نم ہو جاتی ہے، دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے، چھاتی سخت ہوجاتی ہے اور اسی طرح کی دوسری تبدیلیاں آتی ہیں۔

  • Share this:
ہر شخص کا جسم اور دماغ سیکس کے بارے میں ایک طرح سے ردعمل نہیں کرتا
سیکس کی خواہش کے باوجود اہلیہ کے ساتھ مہینوں نہیں ہوتا ہے جنسی تعلق

ہیلو پلوی، مجھے نہیں معلوم کہ میں یہ کیسے کہوں، لیکن میرا اپنی اہلیہ کے ساتھ مہینوں تک جنسی تعلق قائم نہیں ہوتا ہے، لیکن مجھے عموماً ہر دن اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ میں کیا کروں؟

اس کی دو وجہ ہوسکتے ہیں۔ پہلا، ان کی سیکس کی خواہش کم ہے اور اس کی دوسری وجہ ہوسکتی ہے کہ وہ سماجی اور تہذیبی سوچ جو جنسی تعلق کو گندہ اور صرف بچہ پیدا کرنے کے لئے ہی ضروری سمجھتا ہے۔ اگر دوسری وجہ اس کے پیچھے ہے تو آپ ان کی سوچ کو بدلنے کے لئے اپرنا سین، النکرتا شریواستو اور لینا یادو کی فلمیں پرما، لپسٹک انڈر مائی برقہ اور پارچڈ دکھائیے، جنہوں نے متوسط طبقے کی خواتین میں دبی ہوئی، جنسی خواہش کو دوبارہ منظم کرنے کے موضوع پر بہت اچھا کام کیا ہے۔ ان فلموں کی بنیاد پر سیکس کے بارے میں ایک صحتمند بات چیت کی شروعات کیجئے کہ اچھا جنسی تعلق بہتر آپسی رشتے اور خوشی کے لئے کتنا ضروری ہے۔


اس کی دوسری وجہ ان میں جنسی خواہش کی کمی ہوسکتی ہے، جس کی وجہ سے وہ سیکس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لیتی ہیں۔ الگ الگ لوگوں میں جنسی خواہش الگ الگ ہوتی ہے۔ حالانکہ، یہ عجیب لگ سکتا ہے، لیکن ہر شخص کا جسم اور دماغ سیکس کے بارے میں ایک ہی طرح سے ردعمل نہیں کرتا۔ عام طور پر دو طرح کی جنسی خواہش ہوتی ہے۔ انسداد جنسی خواہش خود بخود اور اس کے جواب میں واقع ہوتی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مخالف ہیں اور جب آپ کا پارٹنر الگ طرح کا ہو تو اس سے بہت زیادہ خوف کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ مردوں میں جنسی خواہش فوراً پیدا ہوجاتی ہے، جبکہ خواتین میں جنسی خواہش جوابی ہوتی ہے۔


جن میں جنسی خواہش خود پیدا ہوتی ہے وہ ایسے ہوتے ہیں، جو کسی ریلیشن شپ میں سیکس کی شروعات کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں دن بھر سیکس کی خواہش ہوتی ہے اور اس سے پہلے بھی جب کہ ان کا جسم اس کے لئے تیار نہیں ہوتا (مطلب یہ کہ ان میں سیکس کی خواہش ہوتی ہے، لیکن ان کے اندام نہانی میں محرک نہیں ہوتا) جن میں سیکس کی جوابی خواہش پیدا ہوتی ہے، وہ سیکس کے بارے میں شاید ہی سوچتے ہیں اور کئی بار تو سیکس کے بیچ میں ہونے تک انہیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ سیکس کی خواہش رکھتے ہیں۔ عموماً جن میں اس طرح کی جنسی خواہش ہوتی ہے، انہیں سیکس کے لئے مناسب وقت، جگہ اور ’صحیح حالت’ کی ضرورت ہوتی ہے اور تبھی جاکر وہ سیکس کی حالت تک پہنچ پاتے ہیں۔

ہم میں سے کافی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیکس کی خواہش فوراً جگ جاتی ہے کیونکہ ٹی وی اور فلموں میں ہم یہی تو دیکھتے ہیں، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ الگ الگ جنسی خواہش کی سطح کے ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے اہل نہیں ہوتے۔ اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ آپ کو اس کے لئے کچھ زیادہ کوشش کرنی ہوتی ہے اور ایک دوسرے کے بارے میں سمجھنا ہوتا ہے اور یہ پتہ کرنا ہوتا ہے کہ ان کی ضرورت کیا ہے اور آپ کے پارٹنر کے ساتھ کس طرح کے جنسی عمل آپ کو آزمانا ہے تاکہ آپ کے درمیان سیکس کو باقاعدہ معمول میں شامل ہوسکے۔

ایکسائیٹیڈ ہونے کے دو پہلو ہیں۔ جسمانی اور ذہنی۔ جسمانی محرک میں عضو تناسل متحرک ہوجاتا ہے اور خون کی گردش ہونے کی وجہ سے اس کا سائز بڑا ہو جاتا ہے جبکہ اندام نہانی نم ہو جاتی ہے، دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے، چھاتی سخت ہوجاتی ہے اور اسی طرح کی دوسری تبدیلیاں آتی ہیں۔ ذہنی محرک تب ہوتی ہے، جب سیکس کی خواہش آپ کو اچھی لگتی ہے، جن کی جوش فوری ہے، وہ عموماً ذہنی طور پر ایکسائیٹیڈ ہوتے ہیں، لیکن جسمانی طور پر اتنے ایکسائیٹیڈ نہیں ہوتے۔ تاہم جوابی خواہش جن میں آتی ہے، ان میں جسمانی حرکت سے پہلے حرکت نہیں ہوتی ہے اور اسی وجہ سے وہ تذبذب کا شکار ہوتے ہیں۔

اگر آپ کسی ایسے شخص ہیں جو بے ساختہ جنسی خواہش کو جنم دیتا ہے، تو آپ کے ساتھی کو متحرک کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ اور اگر آپ کو مشتعل جواب مل جاتا ہے، تو آپ جنسی استحکام کے لئے ذہنی طور پر تیار ہونے سے پہلے آپ جنسی حرکت شروع کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں۔ جہاں تک آپ کی اہلیہ کا تعلق ہے، میں تجویز کروں گا کہ آپ ان کے ساتھ نرم سلوک کریں اور یہ نہ سوچیں کہ آپ کو ان کے ساتھ براہ راست جنسی تعلقات رکھنا پڑے گا۔ جسمانی طور پر ان سے متعدد طریقوں سے مباشرت کرنے کی کوشش کریں۔ ان کی پیٹھ کو رگڑیں، ان کے ہاتھوں کو تھامیں، انگلیوں میں انگلی لگائیں، پیروں کی مالش کریں اور ان میں سیکس اپیل زیادہ ہونے کی بات کیجئے۔ پہلے ان کی جسمانی طور پر حوصلہ افزائی کریں، جس کے بعد انہیں جنسی ملاپ کی خواہش ہوگی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 01, 2021 10:28 PM IST