உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بڑی خبر ! اب اطلاعات و نشریات کی وزارت کے دائرے میں آئیں گے آن لائن نیوز پورٹلس ، نوٹیفکیشن جاری

    بڑی خبر ! اب اطلاعات و نشریات کی وزارت کے دائرے میں آئیں گے آن لائن نیوز پورٹلس ، نوٹیفکیشن جاری

    بڑی خبر ! اب اطلاعات و نشریات کی وزارت کے دائرے میں آئیں گے آن لائن نیوز پورٹلس ، نوٹیفکیشن جاری

    نیوز پورٹلس اور میڈیا ویب سائٹس کو ریگولیٹ کرنے کیلئے حکومت نے 10 رکنی کمیٹی بنائی تھی ۔ اس کمیٹی میں اطلاعات و نشریات ، قانون، داخلہ اور آئی ٹی کی وزارتوں اور ڈیپارٹمنٹ آف انڈسٹریل پالیسی اور پروموشن کے سکریٹریوں کو شامل کیا گیا تھا ۔

    • Share this:
      فرضی خبروں کو لے کر صحافیوں کی منظوری ختم کرنے والے متنازع حکم کے بعد اطلاعات و نشریات کی وزارت نے آن لائن نیوز پورٹلس اور میڈیا ویب سائٹس کو ریگولیٹ کرنے کیلئے قانون بنایا ہے ۔ وزارت نے اس کیلئے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے ، جس کے مطابق اب آن لائن نیوز پورٹلس اور آن لائن کنٹینٹ پرووائیڈرس اطلاعات و نشریات کی وزارت کے دائرہ میں آئیں گے ۔

      مرکزی حکومت نے اس سے پہلے سپریم کورٹ میں ایک معاملہ کی وکالت کی تھی کہ آن لائن ذرائع کا ریگولیشن ٹی وی سے زیادہ ضروری ہے ۔ اب حکومت نے آن لائن ذرائع سے نیوز کنٹینٹ دینے والے ذرائع کو وزارت کے تحت لانے کا قدم اٹھایا ہے ۔


      نیوز پورٹلس اور میڈیا ویب سائٹس کو ریگولیٹ کرنے کیلئے حکومت نے 10 رکنی کمیٹی بنائی تھی ۔ اس کمیٹی میں اطلاعات و نشریات ، قانون، داخلہ اور آئی ٹی کی وزارتوں اور ڈیپارٹمنٹ آف انڈسٹریل پالیسی اور پروموشن کے سکریٹریوں کو شامل کیا گیا ۔ علاوہ ازیں مائی گو کے چیف ایگزیکٹو اور پریس کونسل آف انڈیا، نیوز براڈکاسٹرس ایسوسی ایشن اور انڈین براڈ کاسٹرس ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو بھی ممبر بنایا گیا ۔ کمیٹی سے آن لائن میڈیا ، نیوز پورٹل اور آن لائن کنٹینٹ پلیٹ فارم کیلئے مناسب پالیسی کی سفارش کرنے کیلئے کہا گیا تھا ۔

      سپریم کورٹ میں دئے گئے مرکز کے حلف نامہ کے مطابق ملک بھر میں سرکار نے 385 چینلوں کو ریگولر نیوز چینل کے لائسنس دئے ہیں ۔ یہ چینل نیوز کے ساتھ ساتھ غیر تفریحی پروگرام بھی نشر کرتے ہیں ۔ ان میں مذاکرہ ، مباحثہ اور عوام تک جانکاری پہنچانے کے دیگر کئی پروگرام بھی ہوتے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: