உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی میں آلودگی کی وجہ سے ایمرجنسی حالات ، 114 ٹینکروں کو پانی چھڑکاؤ کے لیے لگایا گیا

    دہلی میں آلودگی کی وجہ سے ایمرجنسی حالات ، 114 ٹینکروں کو پانی چھڑکاؤ کے لیے لگایا گیا

    دہلی میں آلودگی کی وجہ سے ایمرجنسی حالات ، 114 ٹینکروں کو پانی چھڑکاؤ کے لیے لگایا گیا

    وزیر ماحولیات گوپال رائے نے دہلی سکریٹریٹ کے باہر دھول آلودگی پر قابو پانے کے لیے پانی کے چھڑکاؤ کے لیے ٹینکروں کو ہری جھنڈی دکھائی۔

    • Share this:
    نئی دہلی : دہلی میں آلودگی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ایئر کوالٹی انڈیکس ابھی بھی 500 کے اوپر بنا ہوا ہے ، جس کی وجہ سے راجدھانی میں ایمرجنسی جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں ۔ وزیر ماحولیات گوپال رائے نے آج دہلی سکریٹریٹ کے باہر دھول آلودگی پر قابو پانے کے لیے پانی کے چھڑکاؤ کے لیے ٹینکروں کو ہری جھنڈی دکھائی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ دیوالی کے دن پنجاب اور ہریانہ میں پرالی جلانے کے واقعات میں اضافہ ہوا اور کچھ لوگوں نے پٹاخے جلائے، جس کی وجہ سے دہلی میں آلودگی کی سطح بڑھ گئی ہے، جس پر قابو پانے کے لیے دہلی حکومت نے ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔ پڑوسی ریاستوں میں کل پرالی جلانے کے تقریباً 3500 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور آج تقریباً 4 ہزار واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    وزیر ماحولیات گوپال رائے نے کہا کہ آلودگی پر قابو پانے کے لیے دہلی میں کئی جگہوں پر بڑی اسموگ گنیں لگائی گئی ہیں اور دہلی بھر کی سڑکوں پر پانی چھڑکنے کے لیے 114 ٹینکروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ 92 تعمیراتی سائٹس کو بھی قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر سیل کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب اور ہریانہ میں پرالی جلانے کے واقعات بڑھتے ہیں تو اس کا اثر دہلی پر بھی ضرور نظر آئے گا ۔دہلی سکریٹریٹ کے باہر ٹینکروں کو ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے وزیر ماحولیات گوپال رائے نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے دہلی کے اندر فضائی آلودگی کے خلاف جنگ کو مضبوطی سے لڑنے کے لیے ایک ماہ قبل سرمائی ایکشن پلان کا آغاز کیا تھا۔ تب سے دہلی حکومت دہلی کے اندر آلودگی پر قابو پانے کے لیے دہلی کے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ خواہ وہ دھول سے آلودگی ہو، گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی، بایو ماس سے ہونے والی آلودگی ہو یا پھر پرالی کو گلانے کے لیے بایو ڈی کمپوزر کے محلول چھڑکنے کا کام ہو، پوری دہلی میں مہم چلائی جاتی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب اور ہریانہ میں جس طرح دیوالی کے دن پرالی جلانے کے واقعات میں اضافہ ہوا اور دہلی میں کچھ لوگ پٹاخے پھوڑ رہے ہیں، اس سے دہلی کے اندر آلودگی کی سطح کافی بڑھ گئی ہے۔ وزیر ماحولیات گوپال رائے نے کہا کہ آج یہ اطلاع ملی ہے کہ پڑوسی ریاستوں میں پرالی جلانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ روز پرالی جلانے کے تقریباً 3500 واقعات درج ہوئے اور آج تک رپورٹ یہ ہے کہ پرالی جلانے کے واقعات 4 ہزار سے تجاوز کر چکے ہیں۔ پرالی جلانے سے ہونے والی آلودگی کا اثر دہلی پر اب بھی نظر آرہا ہے۔ اس لیے دہلی حکومت نے فوری ہنگامی قدم اٹھاتے ہوئے دہلی کی سڑکوں پر پانی چھڑکنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ کئی مقامات پر بڑی اسموگ گنیں لگائی گئی ہیں اور ٹینکروں کے ذریعے پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت آج ہم نے دہلی سکریٹریٹ کے باہر پانی چھڑکنے کا کام شروع کیا ہے۔ اسی طرح کے 114 ٹینکر پوری دہلی میں لگائے گئے ہیں، جو دہلی کے مختلف مقامات پر پانی چھڑک رہے ہیں۔

    وزیر ماحولیات گوپال رائے نے کہا کہ وزیر اعلی اروند کیجریوال کی قیادت میں دہلی حکومت نے کل ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ دہلی کے اندر 92 ایسی تعمیراتی جگہیں ہیں، جن کا محکمہ نے ماضی میں اچانک معائنہ کیا تھا اور وہاں دہلی حکومت کے جاری کردہ رہنما خطوط کی خلاف ورزی پائی گئی تھی۔ ان تمام 92 تعمیراتی مقامات کو سیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایس ڈی ایم اور ڈی پی سی سی کو حکم دیا گیا ہے کہ دہلی کے اندر دھول کی آلودگی پیدا کرنے والے تمام تعمیراتی مقامات کو بند کر دیا جائے۔ ماحولیات کے وزیر گوپال رائے نے کہا کہ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پرالی جلانے کی شرح پنجاب میں سب سے زیادہ ہے۔  اس کے بعد ہریانہ اور اتر پردیش میں پرالی جلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ آئندہ ایک دو روز میں فضائی آلودگی میں کچھ بہتری آئے گی۔ لیکن جس طرح سے پنجاب اور ہریانہ میں پرالی جلانے کے واقعات سامنے آرہے ہیں، اگر یہ بڑھتے ہیں تو یقیناً اس کا اثر دہلی پر بھی نظر آئے گا۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیر ماحولیات گوپال رائے نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ پٹاخوں پر پابندی لگانا غلط تھا ۔ بی جے پی والے خود شور مچا رہے ہیں کہ ہم پٹاخے پھوڑنے کے حق میں ہیں۔ اس کے لیے کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔  پابندی کے باوجود دہلی پولیس نے دیوالی پر پٹاخے پھوڑنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: