ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

اب ٹویٹرپرہندوؤں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کے الزام، دہلی پولیس سے کی گئی شکایت

آدتیہ سنگھ دیشوال (Aditya Singh Deshwal) نے ایک شکایت درج کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ایک ٹویٹر صارف (ملحد) بار بار ہندو دیوی ما کالی کا انتہائی قابل اعتراض گرافک / کارٹون پوسٹ کرتا رہا ہے‘‘۔

  • Share this:
اب ٹویٹرپرہندوؤں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کے الزام، دہلی پولیس سے کی گئی شکایت
اسی عمارت میں ٹویٹرکا دفتر ہے

دہلی سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل نے ٹویٹر انڈیا (Twitter India) اور اس کے ایم ڈی منیش مہیشوری (Manish Maheshwari) کے خلاف پولیس شکایت درج کی ہے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔آدتیہ سنگھ دیشوال (Aditya Singh Deshwal) نے ایک شکایت درج کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ایک ٹویٹر صارف (ملحد) بار بار ہندو دیوی ما کالی کا انتہائی قابل اعتراض گرافک / کارٹون پوسٹ کرتا رہا ہے‘‘۔


انھوں نے الزام لگایا ہے کہ اس ٹویٹر صارف نے ہندو مذہب کی توہین اور پامالی کرنے کے ارادے سے ما کالی کو ایک غلط انداز میں دکھایا ہے۔


ٹویٹر کا دفتر
ٹویٹر کا دفتر


دیشوال نے کہا ہے کہ ’’ملحد کے ذریعہ ٹویٹ کیے گئے دوسرے مواد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر اس ملک کے لوگوں میں مذہبی عداوت کو فروغ دینے کے لئے ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور مجروح کرنے کی کوشش ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ٹویٹر صارف کے ذریعہ شائع کردہ مواد نہ صرف گالی ہے بلکہ معاشرے میں غم ، تکلیف ، خطرہ ، رکاوٹ ، توہین ، چوٹ ، مجرمانہ دھمکی ، دشمنی اور نفرت کی خواہش کا باعث بننے کے مقصد کے لئے اسے پوسٹ کیا گیا ہے‘‘۔

اپنے پلیٹ فارم پر اس طرح کے مواد کی اجازت دینے کا ٹویٹر پر الزام لگاتے ہوئے دیشوال نے کہا کہ اس نے اسے ہٹانے کے لئے اقدامات نہیں کیے ہیں۔ اس میں مزید کہا گیا کہ ٹویٹر ہندو مذہب کے بارے میں جان بوجھ کر نفرت انگیز تقاریر کو فروغ دے رہا ہے‘‘۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’منیش مہیشوری (منیجنگ ڈائریکٹر ٹویٹر انڈیا) کی طرف سے جان بوجھ کر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے کہ اس طرح کے قابل اعتراض مواد کو ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی اس کے پلیٹ فارم سے نہیں ہٹایاگیا‘‘۔دہلی پولیس نے ابھی تک اس شکایت قبول نہیں کیاہے اور نہ ہی اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jul 04, 2021 05:49 PM IST