لوک سبھا الیکشن: اڈوانی کے بعد مرلی منوہر جوشی کو بھی ٹکٹ دینے سے بی جے پی کا انکار

ڈاکٹر جوشی نے پیر کو دیر رات ایک بیان جاری کر کے کہا’’مجھے پارٹی نے لوک سبھا انتخابات نہ لڑنے کا اعلان کرنے کی ہدایت دی ہے‘‘۔

Mar 26, 2019 03:20 PM IST | Updated on: Mar 26, 2019 03:21 PM IST
لوک سبھا الیکشن: اڈوانی کے بعد مرلی منوہر جوشی کو بھی ٹکٹ دینے سے بی جے پی کا انکار

اڈوانی کے ساتھ مرلی منوہر جوشی کی فائل فوٹو

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنے سینئر لیڈر اور سابق صدر لال کرشن اڈوانی کا ٹکٹ کاٹنے کے بعد اپنے ایک اور سابق صدر اور کانپور سے موجودہ رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کو بھی ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ڈاکٹر جوشی نے پیر کو دیر رات ایک بیان جاری کر کے کہا’’مجھے پارٹی نے لوک سبھا انتخابات نہ لڑنے کا اعلان کرنے کی ہدایت دی ہے ‘‘۔

انہوں نے بیان میں کہا ہے کہ پا رٹی کے تنظیمی جنرل سکریٹری رام لال نے ان سے الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے یہ بیان کانپور کے ووٹروں کیلئے جاری کیا ہے جہاں سے 2014 میں وہ تقریبا 57 فیصد ووٹ حاصل کر کے رکن پارلیمان منتخب ہوئے تھے۔ اس سے قبل پارٹی کے ایک اور سینئر لیڈر اور دیوریا سیٹ سے موجودہ ایم پی کلراج مشرا نے بھی لوک سبھا انتخابات نہ لڑنے کا اعلان کیا تھا۔

بی جے پی کے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اتر پردیش کی حکومت میں وزیر سدھارتھ  ناتھ  سنگھ نے کہا’’وہ پارٹی کے بانیوں میں سے ہیں اور بی جے پی نے انہیں’ مارگ درشک منڈل ‘میں رکھ کر احترام دیا ہے۔ ڈاکٹر جوشی کو ٹکٹ دینا یا نہ دینا پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔

اس دورا ن پارٹی نے لوک سبھا انتخابات کے دوران انتخابی مہم کے لئے 40 نمایاں مہم چلانے والوں کی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں لال کرشن اٖڈوانی ، ڈاکٹر جوشی،  مینکا گاندھی اور ان کے بیٹے ورون گاندھی کے نام نہیں ہیں۔

Loading...

Loading...