உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان کی ترقی میں رخنہ اندازی کرنے والوں کو NSA اجیت ڈوبھال نے دی وارننگ

    NSA Ajit Doval News: این ایس اے اجیت ڈوبھال نے کہا، ’دنیا میں جدوجہد کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ اگر ہمیں اس ماحول کا مقابلہ کرنا ہے تو ملک کی اتحاد کو ایک ساتھ بنائے رکھنا ضروری ہے‘۔

    NSA Ajit Doval News: این ایس اے اجیت ڈوبھال نے کہا، ’دنیا میں جدوجہد کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ اگر ہمیں اس ماحول کا مقابلہ کرنا ہے تو ملک کی اتحاد کو ایک ساتھ بنائے رکھنا ضروری ہے‘۔

    NSA Ajit Doval News: این ایس اے اجیت ڈوبھال نے کہا، ’دنیا میں جدوجہد کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ اگر ہمیں اس ماحول کا مقابلہ کرنا ہے تو ملک کی اتحاد کو ایک ساتھ بنائے رکھنا ضروری ہے‘۔

    • Share this:
      نئی دہلی: قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال نے ہفتہ کے روز کہا کہ کچھ عناصر ایسا ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے ملک کی ترقی میں رخنہ اندازی ہو رہی ہے۔ اجیت ڈوبھال نے قومی دارالحکومت میں صوفی مولیوں کے ساتھ بین المذاہب اجلاس میں کہا، ’ایسے عناصر مذہب اور نظریے کے نام پر تلخی اور تصادم پیدا کر رہے ہیں، یہ پورے ملک کو متاثر کرنے کے ساتھ ہی ملک کے باہربھی پھیل رہا ہے‘۔

      اجیت ڈوبھال نے کہا، ’دنیا میں جدوجہد کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ اگر ہمیں اس ماحول کا مقابلہ کرنا ہے تو ملک کی اتحاد کو ایک ساتھ بنائے رکھنا ضروری ہے اور طاقتور ملک کی طرح آگے بڑھیں۔ گزشتہ کچھ سالوں سے ملک جو ترقی کر رہا ہے، اس کا جو فائدہ ہوگا وہ ہر ہندوستانی کا ہوگا‘۔ انہوں نے کہا ’چند لوگ جو مذہب یا نظریہ کے نام پر لوگوں میں تشدد یا جدوجہد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کا اثر پورے ملک پر ہوتا ہے۔ ملک کے اندر بھی ہوتا ہے اور ملک کے باہر بھی ہوتا ہے‘۔

      این ایس اے اجیت ڈوبھال نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’خاموش تماشائی بنے رہنے کے بجائے ہمیں اپنی آواز کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپسی اختلافات کو دور کرنے کے لئے زمینی سطح پر کام کرنا ہوگا۔ ہمیں ہندوستان کے ہر فرقے کو یہ محسوس کرانا ہے کہ ہم ایک ساتھ ایک ملک ہیں، ہمیں اس پر فخر ہے اور ہر مذہب کو یہاں اپنی آزادی کے ساتھ رہنے کا اختیار ہے‘۔

      دوسری طرف اجلاس میں موجود حضرت سید نصیرالدین چشتی نے شدت پسند تنظیموں پر پابندی لگانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ‘کچھ بھی حادثہ ہونے پر ہم مذمت کرتے ہیں۔ اب مذمت کرنے کا نہیں، بلکہ کچھ کردکھانے کا وقت ہے۔ ملک میں جتنی بھی شدت پسند تنظیمیں پیر پسار چکے ہیں، ان پر پابندی عائد کی جانی چاہئے۔

      این ایس اے اجیت ڈوبھال کی صدارت میں منعقدہ بین المذاہب میٹنگ میں مختلف مذاہب کے رہنماوں نے حصہ لیا۔ مذہبی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لئے نریندر مودی حکومت کے ذریعہ سبھی فرقوں تک پہنچنے کی کوشش کے طور پر منعقدہ اس اجلاس میں صوفی سنتوں نے بھی حصہ لیا۔

      بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی پہل ایسے وقت میں آئی ہے، جب ملک میں بی جے پی سے معطل لیڈر نوپور شرما کی پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر متنازعہ اور توہین آمیز تبصرہ اور صوفی بریلو مسلم برادری کے ایک طبقے کے شدید ردعمل کے تناظر میں ملک میں مذہبی انتشار پایا جاتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: