உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     نوپور شرما کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، گرفتاری پر لگی روک، 10 اگست کو ہوگی اگلی سماعت

    Nupur Sharma News: بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما نے اپنی عرضی میں مرکزی وزارت، دہلی، مہاراشٹر، تلنگانہ، مغربی بنگال، کرناٹک، اترپردیش، جموں وکشمیر اور آسام کو فریق بنایا ہے۔

    Nupur Sharma News: بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما نے اپنی عرضی میں مرکزی وزارت، دہلی، مہاراشٹر، تلنگانہ، مغربی بنگال، کرناٹک، اترپردیش، جموں وکشمیر اور آسام کو فریق بنایا ہے۔

    Nupur Sharma News: بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما نے اپنی عرضی میں مرکزی وزارت، دہلی، مہاراشٹر، تلنگانہ، مغربی بنگال، کرناٹک، اترپردیش، جموں وکشمیر اور آسام کو فریق بنایا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کو بڑی راحت دیتے ہوئے آئندہ سماعت تک ان کی گرفتاری پر روک لگا دی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں اگر ان کے بیان (پیغمبر محمد ﷺ کی شان میں گستاخی) سے متعلق کوئی دیگر ایف آئی آر درج ہوتا ہے، تو بھی نوپور شرما کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

      بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما منگل کو سپریم کورٹ میں اپنے خلاف درج کئی معاملوں کو دہلی ٹرانسفر کرنے کے ساتھ گرفتاری سے راحت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سماعت کے دوران نوپور شرما نے جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے بی پاردی والا کی بینچ سے کہا کہ انہیں سیکورٹی مہیا کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد کئی دھمکیاں ملیں اور کچھ حادثات کا ذکر بھی کیا۔

      نوپور شرما نے منگل کو سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا اور اپنی واپس لی گئی عرضی کو بحال کرنے کی گزارش کی تھی۔ نوپور شرما نے ٹی وی پر نشر ایک پروگرام کے دوران پیغمبر محمد پر کی گئی ان کے قابل اعتراض تبصرہ کے متعلق درج الگ الگ ایف آئی آر کو ایک ساتھ جوڑنے کی گزارش والی عرضی کو عدالت عظمیٰ سے دوبارہ بحال کرنے کی گزارش کی ہے۔

      اتنا ہی نہیں، نوپور شرما نے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے ان کے ذریعہ توہین آمیز اور قابل اعتراض تبصرہ سے متعلق درج الگ الگ ایف آئی آر کو ایک ساتھ جوڑنے کی گزارش والی عرضی پر یکم جولائی کو سماعت کے دوران تعطیلی بینچ کی طرف سے کئے گئے منفی تبصروں کو ہٹانے کی بھی گزارش کی ہے۔

      اس سے قبل، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے بی پاردی والا کی بینچ نے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف توہین آمیز تبصرہ سے متعلق کئی ریاستوں میں درج ایف آئی آر کو ایک ساتھ ملانے کی نوپور شرما کی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کی گئی دفتری رپورٹ کی جانکاری کے مطابق، اس سے متعلق نوپور شرما کی رٹ عرضی عدالت کی طرف سے یکم جولائی 2022 کو خارج کردی گئی تھی۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      ادھو ٹھاکرے کو بڑا جھٹکا! شیو سینا کے 12 اراکین پارلیمنٹ بنائیں گے الگ گروپ

      عرضی گزار نوپور شرما کی طرف سے وکیل رچیتا رائے نے نو جولائی کو ایک عرضی دائر کرکے حکم نامے کی وضاحت طلب کی ہے۔ اس کے علاوہ نوٹرائزڈ حلف نامہ داخل کرنے سے چھوٹ کے لئے درخواست کے ساتھ مناسب احکامات جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

      عدالت عظمیٰ نے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہوسلم کے خلاف نوپور شرما کے متنازعہ تبصرہ کے لئے انہیں آڑے ہاتھوں لیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی ‘بے لگام زبان‘ نے پورے ملک کو آگ میں جھونک دیا اور ملک میں جو بھی ہو رہا ہے، اس کے لئے وہ ‘اکیلے‘ ذمہ دار ہیں۔ عدالت نے کہا تھا، ‘ان کا اپنی زبان پر قابو نہیں ہے اور ٹی وی پر غیر ذمہ دارانہ بیان دیئے اور پورے ملک کو آگ میں جھونک دیا۔ پھر بھی وہ 10 سال سے وکیل ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں… انہیں اپنے تبصروں کے لئے پورے ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔ واضح رہے کہ بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما نے اپنی عرضی میں مرکزی وزارت، دہلی، مہاراشٹر، تلنگانہ، مغربی بنگال، کرناٹک، اترپردیش، جموں وکشمیر اور آسام کو فریق بنایا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: