உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر میں صرف ایک ماہ میں 44 ہلاکتیں، اکتوبر ثابت ہوا سال کا سب سے مہلک ترین مہینہ!

    جموں و کشمیر میں ڈی لیمیٹیشن کے عمل میں تیزی ، بہت جلد کمیشن کرے گا دورہ

    جموں و کشمیر میں ڈی لیمیٹیشن کے عمل میں تیزی ، بہت جلد کمیشن کرے گا دورہ

    اکتوبر اس سال جموں و کشمیر کے لیے سب سے مہلک مہینہ ثابت ہوا جس میں 44 ہلاکتیں ہوئیں۔ ان میں سے 19 عسکریت پسند، 13 عام شہری اور 12 مسلح افواج کے اہلکار شامل تھے۔

    • Share this:
      اس سال فروری سے لائن آف کنٹرول Line of Control پر جنگ  ​​بندی کے اعادہ اور صرف دو کامیاب دراندازی کی اطلاعات کے باوجود متعدد محاذوں پر تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ کم از کم چھ دستی بم حملوں، چار آئی ای ڈیز کی برآمدگی، دو پٹرول بم پھینکے جانے اور 11 شہریوں کے خلاف ٹارگٹڈ حملوں کے سلسلہ میں حالات نازک صورت حال اختیار کرتے جارہے ہیں۔ جن میں پانچ غیر مقامی مزدور اور اقلیتی برادریوں کے تین افراد شامل ہیں۔

      اکتوبر اس سال جموں و کشمیر کے لیے سب سے مہلک مہینہ ثابت ہوا جس میں 44 ہلاکتیں ہوئیں۔ ان میں سے 19 عسکریت پسند، 13 عام شہری اور 12 مسلح افواج کے اہلکار شامل تھے۔

      ایک شہری مبینہ طور پر سی آر پی ایف سیکورٹی چیک پوسٹ کودنے کی وجہ سے مارا گیا تھا اور دوسرا سی آر پی ایف کیمپ کے قریب مارا گیا تھا جب وہ مبینہ طور پر کراس فائر میں پھنس گیا تھا۔ رواں ماہ مزید دو غیر مقامی مزدور پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے۔

      ان ہلاکتوں کی وجہ سے وادی سے غیر مقامی لوگوں کی نقل مکانی شروع ہوگئی ہے۔ ان میں سے تقریباً 10,000 افراد پہلے دو ہفتوں کے اندر ہی چلے گئے۔ اسی عرصے میں 350 سے زائد مہاجر خاندانوں نے فوری طور پر کشمیر چھوڑ دیا۔

      شہری ہلاکتوں کے تناظر میں مسلح افواج نے پوری وادی میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا، 14 مقابلوں میں 19 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا۔ انہوں نے عسکریت پسندوں کے مبینہ ہمدردوں کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا۔ اس دورن سینکڑوں نوجوانوں کو طلب، گرفتار اور حراست میں لیا گیا۔
      ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ’’اکتوبر میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور سری نگر میں عسکریت پسندوں کے ذریعہ تشدد کے کم از کم 10 واقعات رونما ہوئے ہیں۔ زمینی صورتحال میں اچانک تبدیلی آئی ہے‘‘۔

      ایک اور اہلکار نے کہا کہ یہ 5 اگست 2019 کے بعد سب سے زیادہ پرتشدد مہینہ رہا ہے، واقعات کی تعداد، اثرات اور وسعت کو دیکھتے ہوئے اس کو مہلک ترین مہینہ کہا جاسکتا ہے۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی National Investigation Agency نے بھی کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے کے لیے کمر کس لی اور 10 اکتوبر کو سازشوں میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ انہوں نے اکتوبر میں جموں و کشمیر میں 40 سے زیادہ مقامات پر چھاپے مارے اور عسکریت پسندانہ سازش کے مقدمات میں باضابطہ طور پر 25 افراد کو گرفتار کیا۔ جموں و کشمیر پولیس نے کئی نوجوانوں کو مقدمات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار بھی کیا۔ انتظامیہ نے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مارے گئے کم از کم 48 قیدیوں کو گزشتہ ماہ آگرہ کی ہائی سکیورٹی جیل میں منتقل کیا۔

      اکتوبر کے آخری ہفتے میں پولیس نے سری نگر کے دو میڈیکل کالجوں کے طلبا کے خلاف بھی مبینہ طور پر جاری ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ہندوستانی ٹیم کے خلاف جیت کا جشن منانے کے الزام میں دو مقدمات درج کیے تھے۔

      دریں اثنا جموں کے راجوری پونچھ رینج کے جنگلات میں آپریشن 20ویں دن میں داخل ہو گیا۔ آپریشن میں اب تک دو جونیئر کمیشنڈ افسران سمیت نو فوجی مارے جا چکے ہیں۔ ایل او سی کے قریب راجوری میں ہفتے کے روز مسلح افواج کے دو اہلکار اس وقت بارودی سرنگ کے دھماکے میں مارے گئے جب وہ گشت پر تھے۔

      جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ Dilbag Singh نے اتوار کو کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں بڑھتی ہوئی تیزی کے بعد حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ سنگھ نے کہا کہ لوگ امن اور ترقی کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں اور وہ تشدد کے خلاف ہیں۔ چند پرتشدد واقعات ہوئے تھے۔ اب صورتحال بہتر ہے‘‘۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: