ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

شادی سے کچھ گھنٹے قبل عاشق کے ساتھ فرار ہوئی دلہن ، تو دولہے نے بہن سے کرلی شادی ، پھر ہوا کچھ ایسا ، سبھی رہ گئے حیران

افسر نے کہا کہ جیا پٹنہ پولیس تھانہ کے دائرہ اختیار میں مال پاڑا گاوں کی دلہن منگل کی شام کو 26 سالہ دولہے کے ساتھ شادی سے کچھ گھنٹے قبل اپنے عاشق کے ساتھ فرار ہوگئی ، جس کے بعد اس کے والدین اس کی نابالغ بہن کی دولہے سے شادی کرنے کیلئے رضامند ہوگئے ۔

  • Share this:
شادی سے کچھ گھنٹے قبل عاشق کے ساتھ فرار ہوئی دلہن ، تو دولہے نے بہن سے کرلی شادی ، پھر ہوا کچھ ایسا ، سبھی رہ گئے حیران
وہیں دوسری طرف ایک دلہن بھی اپنے دولہنے کے بارات لے کر آنے کا انتظار کرتی رہ گئی ۔ یہ وہی دولہا تھا جس کی شادی دوسری لڑکی کے ساتھ ہونے والی تھی ، لیکن وہ بارات لے جانے سے پہلے ہی دوسرے کی دولہن کو اڑا لے گیا ۔ یہ واقعہ علاقہ میں موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔ اس معاملہ پر پنچایت بھی بلائی گئی ۔ (علامتی تصویر)

اوڈیشہ کے کالاہانڈی ضلع میں انتظار کررہے دولہے کو چھوڑ کر ایک دلہن اپنے عاشق کے ساتھ فرار ہوگئی ، جس کے بعد اس کی 15 سالہ چھوٹی بہن کی شادی دولہے کے ساتھ ہوگئی ۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ چائلڈ میریج غیر قانونی ہے ، اس لئے پولیس نے لڑکی کو اس کے سسرال میں رہنے کی اجازت نہیں دی ۔


افسر نے کہا کہ جیا پٹنہ پولیس تھانہ کے دائرہ اختیار میں مال پاڑا گاوں کی دلہن منگل کی شام کو 26 سالہ دولہے کے ساتھ شادی سے کچھ گھنٹے قبل اپنے عاشق کے ساتھ فرار ہوگئی ، جس کے بعد اس کے والدین اس کی نابالغ بہن کی دولہے سے شادی کرنے کیلئے رضامند ہوگئے ۔ کالاہانڈی ضلع چائلد پروٹیکشن افسر نے بتایا کہ دسویں جماعت کے امتحان کی تیاری کررہی نابالغ لڑکی کو اس کے بھائی سپرد کر دیا گیا ۔


انہوں نے کہا کہ دلہن کے والدین اور دولہے کے اہل خانہ کو اس بات کی جانکاری نہیں تھی کہ چائلد میریج غیر قانونی ہے ۔ سی ڈی پی او نے کہا کہ لڑکی نے اپنے والدین کے گھر میں رہنے اور امتحان کی تیاری کرنے کا متبادل منتخب کیا ۔ افسر نے کہا کہ دونوں کنبوں کے لئے ایک صلاح و مشورہ سیشن کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ ان کے خلاف کوئی معاملہ درج نہیں کیا گیا ۔ وہ 18 سال کی عمر یعنی شادی کے قابل عمر ہونے تک ، لڑکی کی اس شادی کو سنجیدگی سے نہیں لینے پر رضامند ہوگئے ۔


افسر نے کہا کہ واقعہ کے بارے میں پوچھے جانے پر لڑکی کے والد نے دعوی کیا کہ وہ ساتھیوں کے دباو کی وجہ سے اپنی چھوٹی بیٹی کی شادی کرانے کیلئے رضامند ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ چائلد پروٹیکشن افسر اور پولیس کے کہنے پر انہوں نے بیٹی کے بالغ ہونے تک اس شادی کو منظوری نہیں دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 19, 2021 10:30 PM IST