உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نہیں چلے گی من مانی: کیب آپریٹروں کو اب لائسنس لینا ضروری، قانونی معیار کے مطابق بنانے ہوں گے ایپ

    دہلی دنیا بھر میں ایپ پر مبنی ایگریگیٹر خدمات جیسے Uber اور Ola کے لیے سرفہرست 10 بازاروں میں شامل ہے۔ اولا اور اوبر کے دہلی میں تقریباً 2 لاکھ ڈرائیور ہیں اور اس کے مطابق یہ منصوبہ ان ایگریگیٹرز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آرہا ہے۔

    دہلی دنیا بھر میں ایپ پر مبنی ایگریگیٹر خدمات جیسے Uber اور Ola کے لیے سرفہرست 10 بازاروں میں شامل ہے۔ اولا اور اوبر کے دہلی میں تقریباً 2 لاکھ ڈرائیور ہیں اور اس کے مطابق یہ منصوبہ ان ایگریگیٹرز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آرہا ہے۔

    دہلی دنیا بھر میں ایپ پر مبنی ایگریگیٹر خدمات جیسے Uber اور Ola کے لیے سرفہرست 10 بازاروں میں شامل ہے۔ اولا اور اوبر کے دہلی میں تقریباً 2 لاکھ ڈرائیور ہیں اور اس کے مطابق یہ منصوبہ ان ایگریگیٹرز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آرہا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:اولا اور اوبر جیسے ایپ پر مبنی ٹیکسی آپریٹرز کی من مانی کو جانچنے کے لیے قومی راجدھانی دہلی میں ایک ڈرافٹ ایگریگیٹر اسکیم جاری کی گئی ہے۔ اس کے تحت آن لائن ٹیکسی، موٹر سائیکل یا تھری وہیلر سروس فراہم کرنے والوں کو 50 سے زائد کاروں کا بیڑا رکھ کر ایپ سے لائسنس لینا ہوگا۔

      اسکیم کے تحت انہیں مقامی سطح پر آپریٹنگ سینٹرز کھولنے ہوں گے۔ انہیں اپنی ایپ کو ہندوستانی قانون کے مطابق ڈھالنا ہوگا اور 24 گھنٹے امدادی مراکز بھی چلانا ہوں گے جہاں ان کی کاروں کو ٹریک کیا جاتا ہے۔ ہنگامی صورت حال میں، صارف اور ڈرائیور کو ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں رابطہ کرکے مدد فراہم کی جاسکتی ہے۔ اس اسکیم کو فی الحال دہلی میں لاگو کرنے کا منصوبہ ہے۔

      دہلی میں اولا اور اوبیر کے قریب 2 لاکھ ڈرائیور
      دہلی دنیا بھر میں ایپ پر مبنی ایگریگیٹر خدمات جیسے Uber اور Ola کے لیے سرفہرست 10 بازاروں میں شامل ہے۔ اولا اور اوبر کے دہلی میں تقریباً 2 لاکھ ڈرائیور ہیں اور اس کے مطابق یہ منصوبہ ان ایگریگیٹرز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آرہا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے ڈرافٹ پلان کو پبلک کر دیا ہے اور تمام متعلقہ افراد کو 18 فروری تک کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ اپنی آراء یا اعتراضات درج کرائیں۔ اسکیم کے نفاذ کے بعد، ٹو وہیلر، تھری وہیلر اور کاروں کے ذریعے ایپ پر مبنی خدمات فراہم کرنے والوں کو لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔ بسوں کو اس اسکیم سے باہر رکھا گیا ہے۔

      نہیں لیا لائسنس تو 25 ہزار روپے فی گاڑی کا ہوگا جرمانہ
      اسکیم پر عمل نہ کرنے والوں کے لیے بھاری جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔ اگر ایگریگیٹر نے گائیڈ لائنز کے اجراء کے 3 ماہ کے اندر لائسنس نہیں لیا تو فی گاڑی 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

      • نوٹیفکیشن کے 100 دن مکمل ہونے کے بعد بھی لائسنس حاصل نہ کیا گیا تو 500 روپے فی گاڑی یومیہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

      • گاڑیوں کے بیڑے کو الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کرنے کے لیے روڈ میپ دیا گیا ہے۔ لائسنس حاصل کرنے کے 6 ماہ کے اندر 10 فیصد دو پہیہ اور تین پہیہ گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کرنا ہوگا، 25 فیصد کو 1 سال میں اور 50 فیصد کو 2 سال کے اندر۔

      • کاروں کے بیڑے کے لیے شرط یہ ہے کہ 5فیصد کو 6 ماہ میں، 15فیصد ایک سال میں اور 25فیصد کو 2 سال میں الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کیا جائے۔ تعمیل نہ کرنے کی صورت میں 1000 روپے فی گاڑی یومیہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔



       

      یہ رولس ماننے ہوں گے

      • دہلی میں ان کا آپریٹنگ سینٹر، کنٹرول سینٹر یا انفارمیشن سینٹر ہونا چاہیے جو 24 گھنٹے کام کرتا ہے۔ اس میں ہر گاڑی کی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔

      • گاڑی کے استعمال کے نقطہ آغاز سے منزل تک اور راستے کا مکمل ریکارڈ اور پینک بٹن کا اسٹیٹس پتہ رہے۔

      • ایپ میں کال سینٹرز اور درست فون نمبرز ہونے چاہئیں جہاں سے ہر وقت صارفین تک پہنچا جا سکتا ہے۔


       
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: