உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تقسیم کے وقت بچھڑے دوستوں کی کرتار پور میں ہوئی ملاقات! 74 سال بعد ایک دوسرے کو دیکھ کر آگئے آنکھوں میں آنسو

    تقسیم کے وقت بچھڑے دوستوں کی کرتار پور میں ہوئی ملاقات! 74 سال بعد ایک دوسرے کو دیکھ کر آگئے آنکھوں میں آنسو

    تقسیم کے وقت بچھڑے دوستوں کی کرتار پور میں ہوئی ملاقات! 74 سال بعد ایک دوسرے کو دیکھ کر آگئے آنکھوں میں آنسو

    1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے دوران سردار گوپال سنگھ اور ان کے دوست محمد بشیر ایک دوسرے سے الگ ہوگئے تھے ، مگر سرحدوں کے بننے کے باوجود ان کی دوستی پر کوئی آنچ نہیں آئی ۔ 74 سال بعد جب 94 سال کے گوپال سنگھ اور 91 سال کے بشیر ملے تو دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ رونے لگے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : بنے چاہے دشمن زمانہ ہمارا ، سلامت رہے دوستانہ ہمارا! ، امیتابھ بچن اور شتروگھن سنہا کی فلم دوستانہ کا مشہور گانا آج بھی سچی دوستی کے جذبات کو ظاہر کرتا ہے ۔ دوستی ایک احساس ہے جو سالوں سال دو دوستوں کے اندر رہتا ہے پھر ان کے درمیان خواہ جتنی بھی دوری آجائے وہ کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے ۔ ایسا ہی کچھ حال ہی میں اس وقت ہوا جب کرتار پور کے گرودوارہ دربار صاحب میں 74 سال پہلے بچھڑے دوستوں کی ملاقات ہوئی ۔

      1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے دوران سردار گوپال سنگھ اور ان کے دوست محمد بشیر ایک دوسرے سے الگ ہوگئے تھے ، مگر سرحدوں کے بننے کے باوجود ان کی دوستی پر کوئی آنچ نہیں آئی ۔ 74 سال بعد جب 94 سال کے گوپال سنگھ اور 91 سال کے بشیر ملے تو دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ رونے لگے ۔


      سوشل میڈیا پر دونوں کی دوستی کے قصے موضوع بحث بنے ہوئے ہیں ۔ حال ہی میں ہندوستان سے جب گوپال سنگھ کرتار پور صاحب کی زیارت کرنے کیلئے پہنچے تو وہاں ان کی ملاقات اپنے بچھڑے ہوئے دوست بشیر سے ہوگئی ، جو پاکستان کے نروال شہر میں رہتے ہیں ۔ پاکستان کے نیوز آوٹ لیٹ ڈان کے مطابق دونوں جب چھوٹے تھے تو ساتھ میں یہاں زیارت کرنے جاتے تھے اور چائے ناشتہ کرتے تھے ۔

      ایک شخص نے ٹویٹر پر دونوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ مذہب اور تیرتھ یاترا سے الگ دل کو چھو لینے والی یہ کہانی کرتار پور صاحب کی ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ کرتار پور گلیارہ بدھ کو پھر سے کھول دیا گیا گیا ۔ اس سے پہلے کرتار پور صاحب گرودوارہ کی تیرتھ یاترا گزشتہ سال مارچ میں کورونا وبا کی وجہ سے ملتوی کردی گئی تھی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: