جموں وکشمیر: اس قانون کے تحت ہوئی عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی گرفتاری، امت شاہ نے کیا انکشاف

مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اورمحبوبہ مفتی کو بھی پبلک سیفٹی ایکٹ یعنی پی ایس اے کے تحت گرفتارکیاہے۔ انڈیا ٹوڈے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیرداخلہ امت شاہ نے اس بات کا اعتراف کرلیاہے۔

Oct 15, 2019 02:41 PM IST | Updated on: Oct 15, 2019 02:41 PM IST
جموں وکشمیر: اس قانون کے تحت ہوئی عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی گرفتاری، امت شاہ نے کیا انکشاف

آرٹیکل 370 کی منسوخی : جموں وکشمیر: اس قانون کے تحت ہوئی عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی گرفتاری، امت شاہ نے کیا انکشاف -(تصویر:نیوز18ڈاٹ کام)۔

مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اورمحبوبہ مفتی کو بھی پبلک سیفٹی ایکٹ یعنی پی ایس اے کے تحت گرفتارکیاہے۔ انڈیا ٹوڈے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیرداخلہ امت شاہ نے اس بات کا اعتراف کرلیاہے۔امت شاہ نے کہا ’’انکو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ابھی ڈیٹنشن میں رکھاگیا ہے،‘‘حکومت نے پہلی بارجموں وکشمیر کے ان 2 مین اسٹریم رہنماؤں کی گرفتاری کی نوعیت کے بارے میں تفصیل دی ہے۔پبلک سیفٹی ایکٹ، جموں و کشمیر کا ایک سخت قانون ہے، جس کے تحت کسی بھی شخص کو عدالت میں پیش کیے بغیر چھ ماہ سے دو سال کی مدت تک قید میں رکھا جاسکتا ہے۔ یادرہے کہ جموں و کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلیٰ 5 اگست سے سرینگر میں نظر بند ہیں، ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا تھا، اب پہلی بار حکومت نے واضح کیا ہے کہ عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی اسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

امت شاہ نے گرفتاریوں کا ذکر کہا کہ ’’ دفعہ 370 کے خاتمے کے فوراً بعد، جب واقعہ تازہ ہو، تو یہ لازمی ہے کہ کچھ لوگ سکتے میں ہوں گے، اگر کوئی انہیں اکسانے کی کوشش کرے گا تو قدرتی طور پر صورتحال کو کنٹرول کرنے میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ چار ہزار لوگ، حراست میں لئے گئے۔ ایک ہزار سے کم لوگ ابھی جیل میں ہیں جن میں 800 پتھرباز ہیں۔امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ دفعہ 370 ہی کشمیر میں 40 ہزار لوگوں کی موت کا ذمہ دار ہے۔ ’’ہم نے دفعہ 370 کو ہٹایا ہے۔

Loading...

تاہم انگریزی اخبارانڈین ایکسپریس کے مطابق سرینگر کے مقامی انتظامیہ نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی تھی کہ عمراور محبوبہ کو بھی اسی قانون کے تحت نظر بند کیا گیا ہے۔ پی ایس اے کے تحت نظربندی کا آرڈر ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے جاری ہوتا ہے۔حکام نے پہلے ہی سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت نظر بند کیا ہے۔ وہ گپکار روڑ پر اپنی رہائش گاہ میں نظر بند ہیں۔ گزشتہ ہفتے حکام نے انکی جماعت نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کو انکے ساتھ ملاقات کی اجازت دی تھی۔

واضح رہے کہ عمرعبداللہ کوہری نواس گیسٹ ہاؤس نظررکھاگیاہے وہیں محبوبہ مفتی کوچشمہ شاہی کی ایک سرکاری عمارت میں مقید رکھا گیا ہے۔تینوں سابق وزرائے اعلیٰ، ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں، جنہیں حکام نے 5 اگست سے قبل یا اسکے فوراً بعد حراست میں لیا ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ ریاست کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے مرکزی فیصلے کے خلاف عوامی مظاہرے ناممکن بنانے کے لیے ان رہنماوں کوحراست میں رکھا گیا ہے۔

Loading...