ہوم » نیوز » وطن نامہ

کشمیریوں پر تشدد کا معاملہ : سپریم کورٹ کے حکم کا عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی نے کیا خیر مقدم ، کہی یہ بات

عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز عدالت عظمیٰ کے اس حکم کا خیر مقدم کیا جس کے تحت ملک کی گیارہ ریاستوں کے چیف سیکریٹریوں اورپولیس کے سربراہوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کشمیریوں کے تحفظ کے لئے فوری اور ضروری اقدام کریں۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 22, 2019 04:04 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کشمیریوں پر تشدد کا معاملہ : سپریم کورٹ کے حکم کا عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی نے کیا خیر مقدم ، کہی یہ بات
واضح رہے کہ عمرعبداللہ کوہری نواس گیسٹ ہاؤس نظررکھاگیاہے وہیں محبوبہ مفتی کوچشمہ شاہی کی ایک سرکاری عمارت میں مقید رکھا گیا ہے۔تینوں سابق وزرائے اعلیٰ، ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں، جنہیں حکام نے 5 اگست سے قبل یا اسکے فوراً بعد حراست میں لیا ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ ریاست کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے مرکزی فیصلے کے خلاف عوامی مظاہرے ناممکن بنانے کے لیے ان رہنماوں کوحراست میں رکھا گیا ہے۔

جموں وکشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز عدالت عظمیٰ کے اس حکم کا خیر مقدم کیا جس کے تحت ملک کی گیارہ ریاستوں کے چیف سیکریٹریوں اورپولیس کے سربراہوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کشمیریوں کے تحفظ کے لئے فوری اور ضروری اقدام کریں۔

واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ میں پلوامہ خود کش حملہ کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں مقیم کشمیریوں پر مبینہ حملوں کے خلاف دائر عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہوئی ، جس دوران عدالت عظمیٰ نے گیارہ ریاستوں کے چیف سیکریٹریوں، پولیس سربراہوں اور دہلی کے پولیس کمشنر کے نام ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ کشمیریوں اور دیگر اقلیتی فرقوں کے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے فوری اور ضروری اقدام کریں۔

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا مشکور ہوں کہ اس ادارے نے وہ کام کیا جو دہلی میں منتخب قیادت کو کرنا چاہئے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر ابھی انکار کرنے میں ہی مشغول تھے اور گورنر دھمکیاں دینے میں ہی مصروف تھے کہ عدالت عظمیٰ نے مداخلت کی۔








پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلہ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ریاست کشمیری طلبہ کی ہراسانی اور ان کےخلاف سوشل بائیکاٹ پر روک کو یقینی بنانے کے لئے عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے تسکین حاصل ہوئی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں : جموں و کشمیر : گورنر ستیہ پال ملک کا عمر عبداللہ کو دو ٹوک جواب ، کہا : عدالت جانے کیلئے آزاد ہیں 

 
First published: Feb 22, 2019 03:44 PM IST