ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جموں وکشمیر : سوشل میڈیا پرسرکاری حکم نامہ معاملہ میں گورنرکی وضاحت۔ عمرعبداللہ کیا یہ مطالبہ

سوشل میڈیا پر وائرل سرکاری حکم ناموں کی سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات کرائی جائے: عمر عبداللہ

  • Share this:
جموں وکشمیر : سوشل میڈیا پرسرکاری حکم نامہ معاملہ میں گورنرکی وضاحت۔ عمرعبداللہ کیا یہ مطالبہ
جموں کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک اورنیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمر عبداللہ کی فائل فوٹو۔(تصویر:نیوز18)۔

جموں کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے جارہے سرکاری حکم ناموں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک اور نارمل ہے- لوگوں کو افواہوں پر توجہ نہیں دینی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں افواہیں بہت پھیلتی ہیں ان پر کان دھرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔موصوف گورنر نے ان باتوں کا اظہار منگل کے روز یہاں شیر کشمیر انٹرنیشنل کنووکیشن سینٹر میں منعقدہ ایک تقریب کے حاشئے پر میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا۔


انہوں نے کہا: 'جو دکھایا گیا ہے سوشل میڈیا پر، وہ سرکار کے حکم نامے نہیں ہیں، کشمیر میں اگر کسی کو لالچوک میں چھینکیں آتی ہیں تو گورنر ہاؤس تک خبر پھیلتی ہے کہ بم پھٹ گیا ہے، یہاں افواہیں بہت پھیلتی ہیں، ان پر کان دھرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہاں سب کچھ ٹھیک ہے'۔اس سے پہلے ایک  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک نے کہا کہ کشمیر میں ایک زمانے میں دلی کی سرکاروں نے بے ایمانی کرکے وزیر اعلٰی چنے ہیں۔انہوں نے کہا: 'ایک زمانے میں دلی کی سرکاروں نے غلطی کی ہے اور بے ایمانی کرکے یہاں بغیر چناؤ کے وزیر اعلیٰ چنے ہیں اور جیتنے والے لیڈروں کو ہرا دیا ہے'۔


کشمیر کے لیڈروں کو سب سے گناہ گار قرار دیتے ہوئے ملک نے کہا: 'میں یہاں کے لیڈروں کو سب سے زیادہ گناہ گار مانتا ہوں، انہوں نے کبھی سچ نہیں بولا، وہ ایسے ایسے خواب لوگوں کو دکھا رہے تھے کہ ایک سال میرا شال والا بھی مجھ سے پوچھتا ہے کہ صاحب آزادی کب ہوگی، میں نے کہا کہ تم لوگ تو آزاد ہی ہو اگر پاکستان کی طرف جانا چاہتے ہو تو چلے جاؤ لیکن ہندوستان کو توڑ کے کوئی آزادی نہیں ملے گی'۔

سوشل میڈیا پر وائرل سرکاری حکم ناموں کی سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات کرائی جائے: عمر عبداللہ

جموں کشمیرکے گورنر ستیہ پال ملک کی طرف سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے حالیہ سرکاری حکم ناموں کو بے بنیاد قرار دینے کے رد عمل میں نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا ہے کہ ان بے بنیاد سرکاری حکم ناموں اور ان کی اصلیت کی سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات ہونی چاہئے۔سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے ایک ٹویٹ میں رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: 'گورنر نے ایک انتہائی سنجیدہ بات اٹھائی ہے، سینئر افسروں کی طرف سے دستخط شدہ جعلی سرکاری حکم ناموں کو مشتہر کیا گیاہے میڈیا کے سامنے ایک بائٹ دینے سے کام نہیں چلے گا، جعلی سرکاری حکم ناموں کی تشہیر اور ان کی اصلیت کے بارے میں سی بی آئی کی طرف تحقیقات کرانے کے لئے رجوع کیا جانا چاہئے'۔

قابل ذکر ہے کہ ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے ان سرکاری حکم ناموں کے حوالے سے منگل کے روز میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جارہے سرکاری حکم نامے بے بنیاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں افواہیں زیادہ پھیلتی ہیں لوگوں کو ان کی طرف دھیان نہیں دینا چاہئے یہاں سب کچھ ٹھیک اور نارمل ہے۔

First published: Jul 30, 2019 05:57 PM IST