உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوگ سے مکر سنکرانتی تک... آخر مسلم طلبہ کو ہی کیوں یہ سب کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے-عمر عبداللہ

    مرکز کے سوریہ نمسکار کے حکم پر اٹھائے جارہے ہیں سوال۔

    مرکز کے سوریہ نمسکار کے حکم پر اٹھائے جارہے ہیں سوال۔

    ہندوستان سیکولر ملک ہے،یہ کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ہے۔ ہمارا آئین اسی اصول پر لکھا گیا ہے۔ اسکول کا نصاب بھی اسی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ لیکن موجودہ حکومت اس اصول سے انحراف کر رہی ہے۔ حکومت سوریہ نمسکار کے مجوزہ پروگرام سے باز آجائے۔

    • Share this:
      سرینگر: جموں کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آزادی کے مہوتسو کے تحت اسکولوں میں سوریہ نمسکار کرانے کے فیصلےکی مخالفت کی ہے۔ عبداللہ نے کہا، آخر ہمیشہ مسلم طلبہ کو یوگ سے لے کر مکر سنکرانتی تک سب کچھ منانے کے لئے کیوں مجبور کیا جاتا ہے۔

      دراصل، مرکزی وزارت تعلیم نے آزادی کے جشن کے تحت مکر سنکرانتی پر اسکولوں میں بڑے پیمانے پر سوریہ نمسکار کرانے کا حکم دیا تھا۔ اسی کے تحت جموں کشمیر محکمہ تعلیم نے اسکولوں میں یوگ اور سوریہ نمسکار کرانے کا حکم جاری کیا تھا۔ اسی حکم پر عمر عبداللہ نے سوال کھڑے کیے ہیں۔


      عمرعبداللہ نے ٹوئٹ کیا، یوگ سے مکر سنکرانتی تک کیوں مسلم اسٹوڈنٹس کو یہ سب کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ مکر سنکرانتی ایک تہوار ہے۔ اسے منانا یا نا منانا نجی رائے ہے۔ کیا بی جے پی ایسے حکم نامے سے خوش ہوگی، جہاں غیر مسلم طلبہ کو عید منانے کا حکم جاری کیا جائے۔

      محبوبہ مفتی نے بتایا کشمیریوں کی اجتماعی بے عزتی
      اس کے علاوہ، جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے شدید اعتراض ظاہر کی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ، مرکزی حکومت کا یہ طریقہ ایک طرح سے کشمیریوں کی اجتماعی بے عزتی ہے۔ طلبہ اور اسٹاف کو کچھ ایسا کرنے کے لئے مجبور کرنا، جس میں وہ بے اطمینانی محسوس کرے اور جو مذہبی طور پر بھی اثرانداز ہوتا ہے، ایک طرح سے حکم جاری کرنے والوں کی مذہبی ذہنیت کو بھی دکھاتا ہے۔


      مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی اٹھائے تھے سوال
      اس سے پہلے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی مرکز کے اس فیصلے کی مخالفت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سوریہ نمسکار، سورج کی پوجا کا ہی طریقہ ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے حکومت سے ایسے پروگرام نہ کرانے اور مسلم طلبہ و طالبات سے اس میں شامل نہ ہونے کی اپیل کی تھی۔


      آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے بیان میں کہا، ’ ہندوستان سیکولر ملک ہے،یہ کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ہے۔ ہمارا آئین اسی اصول پر لکھا گیا ہے۔ اسکول کا نصاب بھی اسی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ لیکن موجودہ حکومت اس اصول سے انحراف کر رہی ہے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے لکھا کہ، حکومت سوریہ نمسکار کے مجوزہ پروگرام سے باز آجائے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: