உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Omicron آخری ویرینیٹ نہیں، ویکسین ہی کورونا سے کرے گا حفاظت، کیا ویکسینیشن کو لازمی کیا جانا چاہیے؟

    اومیکرون آخری ویرینٹ نہیں؟ ویکسین ہی بچائے گی کورونا سے!

    اومیکرون آخری ویرینٹ نہیں؟ ویکسین ہی بچائے گی کورونا سے!

    وہیں دنیا کے کئی ملکوں میں مقامی حکومتوں نے ہیلتھ ورکرس اور ہائی رسک پروفائل والے شہریوں کے لئے کورونا ویکسینیشن لازمی کردیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی ملکوں میں سرکاری ملازمین اور دیگر کام کرنے والوں کے لئے بھی کورونا کا ٹیکہ لازمی کیا گیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دنیا کے کئی ممالک کورونا انفیکشن (Corona Infection) کی مار جھیل رہے ہیں اور اس جان لیوا وائرس سے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے ویکسینیشن مہم (Vaccination Drive) میں تیزی لارہے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ اب بھی لوگوں کے اندر ویکسین کو لے کر شک اور گھبراہٹ ہے۔ جس کی وجہ سے کورونا ٹیکہ اندازی مہم میں پریشانی آرہی ہے۔ ہندوستان میں حکومت نے 15 سال یا اُس سے زیادہ عمر والے سبھی لوگوں کو ویکسین لگانے کی منظوری دے دی ہے۔ کورونا وبا کا خاتمہ کرنے کے لئے حکومت محفوظ اور اثردار طریقے سے کوویڈ-19 ویکسینیشن (Covid-19 Vaccination) پروگرام کو آگے بڑھارہے ہیں۔

      وہیں دنیا کے کئی ملکوں میں مقامی حکومتوں نے ہیلتھ ورکرس اور ہائی رسک پروفائل والے شہریوں کے لئے کورونا ویکسینیشن لازمی کردیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی ملکوں میں سرکاری ملازمین اور دیگر کام کرنے والوں کے لئے بھی کورونا کا ٹیکہ لازمی کیا گیا ہے۔

      اومیکرون کے بعد دیر ویرینٹ کے آنے کے امکانات
      دنیا کے کئی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اومیکرون ویرینٹ کوکورونا وبا کا آخری ویرینٹ سمجھنے کی بھول نہیں کرنی چاہیے۔ ان ہیلتھ ایکسپرٹس کا ماننا ہے کہ آنے والے وقتمیں کورونا وائرس کے دیگر ویرینٹ بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ کیونکہ جس رفتار سے اومیکرون ویرینٹ لوگوں کو متاثر کررہا ہے اور لگاتار وائرس کا میوٹیشن ہورہاہے اس وجہ سے یہ وائرس خود کو اور بہتر کررہا ہے۔

      حالانکہ ان سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے ویرینٹس کس طرح کے ہوں گے اور کتنے خطرناک ہوں گے اور موجودہ ویکسین ان کے خلاف اثر دار ہوگا یا نہیں؟ بوسٹن یونیورسٹی کے وبائی امراض کے ماہر لیونارڈو مارٹنس نے کہا ہے کہ، ان ویرینٹ سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کوویڈ-19 ویکسینیشن میں تیزی لائی جائے۔ کیونکہ اگر اس وائرس کا لگاتار میوٹیشن ہوتا رہا تو آنے والے ویرینٹس کے آنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: