உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تلنگانہ اور بنگال کے بعد تمل ناڈو میں بھی اومیکرون کی انٹری، کیرل مہاراشٹر میں بھی نئے ویرینٹ کے ملے 4-4 نئے کیسیز

    تمل ناڈو میں بھی اومیکرون کی انٹری۔

    تمل ناڈو میں بھی اومیکرون کی انٹری۔

    مہاراشٹر کے منسٹر اسلم شیخ نے کہا ہے کہ، اومیکرون ویرینٹ جس طرح سے پھیل رہا ہے اُسے دیکھتے ہوئے کرسمس اور نیو ایئر پر کسی بھی بڑے پروگرام کو کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے آگے کہا کہ، جو مذہبی مقامات کھلے ہیں اُن میں گائیڈلائنس پر عمل کرنے کی سختی سے ہدایت جاری کی گئی ہے۔

    • Share this:
      چنئی: کورونا کا اومیکرون ویرینٹ (Omicron Variant) ملک میں تیزی سے پھیل رہ اہے۔ بدھ کو تمل ناڈو سے بھی اومیکرون کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔ جانکاری کے مطابق، چنئی کا رہنے والا 47 سال کا ایک شخص اومیکرون ویرینٹ سے متاثر پایا گیا ہے۔ وہ حال ہی میں نائیجریا کا سفر کرکے لوٹا تھا۔ ریاست کے وزیر صحت سبرامنیم نے اس بارے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ تمل ناڈو میں اومیکرون کا پہلا کیس سامنے آیا ہے جس میں نائیجریا سے لوٹا 47 سالہ شخص کورونا پازیٹیو پایا گیا ہے۔ اس سے پہلے بدھ کو ہی مغربی بنگال اور تلنگانہ سے بھی اومیکرون کے کیس سامنے آچکے ہیں۔

      ملک میں دن بہ دن بڑھ رہے اومیکرون کے کیسیز نے حکومت کی تشویش بھی بڑھادی ہے۔ حال ہی میں کیرل سے بھی اومیکرون کا پہلا کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد اب آج یعنی بدھ کو اس کے 4 اور نئے کیسیز سامنے آگئے ہیں۔ ان کیسیز کے بعد اب ریاست میں مجموعی طور پر اومیکرون کے کیسیز کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔

      مہاراشٹر میں بھی اومیکرون کے 4 نئے کیسیز
      اس کے علاوہ مہاراشٹر میں بھی اومیکرون کا ہب بنتا جارہا ہے۔ یہاں 4 مزید مریض اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں، جس سے متاثرین کی تعداد32 ہوگئی ہے۔ اومیکرون کے بڑھتے کیسیز کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے کرسمس اور نیو ایئر کو لے کر احکامات جاری کیے ہیں۔

      مہاراشٹر کے منسٹر اسلم شیخ نے کہا ہے کہ، اومیکرون ویرینٹ جس طرح سے پھیل رہا ہے اُسے دیکھتے ہوئے کرسمس اور نیو ایئر پر کسی بھی بڑے پروگرام کو کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے آگے کہا کہ، جو مذہبی مقامات کھلے ہیں اُن میں گائیڈلائنس پر عمل کرنے کی سختی سے ہدایت جاری کی گئی ہے۔

      دوسری جانب دلی کے فورٹس ایسکارٹس ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے ورکنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر اشوک سیٹھ نے کہا ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر ویکسین کی بوسٹر ڈوز کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ مغرب کے حالات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ایک بوسٹر ڈوز دی جاتی ہے، تو ہم اس ویرینٹ کے خلاف بہتر طور پر محفوظ ہوسکتے ہیں۔

      اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اومیکرون ویرینٹ ہندوستان کے لئے تشویش کا سبب ہے کیونکہ ہم گنجان آبادی والے ملک میں ہیں،کئی لوگوں نے ابھی بھی کورونا کی ویکسین نہیں لی ہے۔ کئی لوگ کورونا کی گائیڈلائنس کو ماننے میں لاپرواہی برت رہے ہیں۔ ایسے میں ہمیں پھر سے جانچ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم تیسری لہر کے لئے مناسب طور پر تیار ہیں۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: