உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Omicron: اومی کرون ڈیلٹا کی طرح 2 نسبوں میں ہوا تقسیم، سائنسدان نے اپنی تحقیق میں کیا انکشاف، جانیے تفصیلات

    اومی کرون ویرینٹ کو عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ ہفتے ’’تشویش کی باعث قسم‘‘ قرار دیا۔

    اومی کرون ویرینٹ کو عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ ہفتے ’’تشویش کی باعث قسم‘‘ قرار دیا۔

    انسٹی ٹیوٹ آف جینومکس اینڈ انٹیگریٹیو بایولوجی (IGIB) کے ایک سینئر سائنسدان ونود سکاریا نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اومی کرون ویرینٹ (B.1.1.529) اب نسبوں BA.1 اور BA.2 میں تقسیم ہو گیا ہے۔ لیکن ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ ہماری تحقیقی کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔

    • Share this:
      عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کے نئے ویرینٹ اومی کرون (Omicron) کو حال ہی میں عالمی ادارہ صحت (WHO) نے تشویش کی قسم قرار دیا تھا۔ جس کا سائنسی نام B.1.1.529 ہے۔ اب یہ مبینہ طور پر دو نسبوں BA.1 اور BA.2 میں تقسیم ہو گیا ہے۔ جب کہ ایک قسم ایک وائرل جینوم (جینیاتی کوڈ) ہے جو کہ ایک یا زیادہ میوٹیشنس پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ یہ نسب ایک مشترکہ آباؤ اجداد کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے والے وائرسوں کا ایک گروپ ہے۔ تاہم ماہرین صحت نے یقین دہائی کرائی ہے کہ فی الحال نئے نسبوں کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

      گذشتہ 8 نومبر کو جنوبی افریقہ میں تقریباً 50 میوٹیشنس کے ساتھ اومی کرون کا پتہ چلنے کے بعد سے یہ ہندوستان سمیت درجنوں ممالک میں پھیل چکا ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق یہ میوٹیشنس کثرت سے ہوتے ہیں، لیکن صرف بعض اوقات وائرس کی خصوصیات کو تبدیل کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عام آدمی کے لیے پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ اومی کرون نسب میں تقسیم سائنسدانوں کے لیے زیادہ دلچسپی کا باعث ہے۔ اس سے وبائی امراض کی بہتر نگرانی میں مدد ملے گی، تاکہ اس کے بارے میں مزید تحقیق کی جائے۔

      ماہرین صحت کے مطابق ڈیلٹا ویریئنٹ بھی پہلے دو نسبوں میں تقسیم ہوا اور پھر تین میں تقسیم ہوگیا، جس میں ڈیلٹا پلس بھی شام ہے۔ بعد میں یہ تقریباً 100 نسبوں میں تقسیم ہو گیا، لیکن اس نے لوگوں کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچایا۔

      انسٹی ٹیوٹ آف جینومکس اینڈ انٹیگریٹیو بایولوجی (IGIB) کے ایک سینئر سائنسدان ونود سکاریا نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اومی کرون B.1.1.529 نسب اب BA.1 اور BA.2 میں تقسیم ہو گیا ہے۔BA.1 اصل نسب ہوگا اور BA.2 تقریباً 24 میوٹیشنس کے ساتھ نئے آؤٹ لئیر کو گھیرے گا۔ یہ وبائی امراض کی بہتر نگرانی کے لیے ہے اور ابھی تک ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے‘‘۔

      دونوں نسبوں کو میوٹیشنس کی بنیاد پر درجہ بندی کیا گیا تھا، جن میں سے کچھ دونوں ویرینٹس کے لیے مشترک ہیں۔ لیکن کچھ دونوں نسبوں کے لیے منفرد ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک نسب (BA.1) S-Gene Target Failure یا SGTF دیتا ہے، جو موجودہ RT-PCR ٹیسٹ کے ذریعے اومی کرون ویرینٹ کی شناخت میں مدد کرتا ہے، دوسرا (BA.2) SGTF نسب اس کے لیے مدد نہیں کرتا۔

      دریں اثنا سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اومی کرون کے ایک ’اسٹیلتھ‘ ورژن کی نشاندہی کی ہے جسے پی سی آر ٹیسٹوں کا استعمال کرتے ہوئے دیگر ویرینٹ سے ممتاز نہیں کیا جا سکتا۔ گارڈین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور کینیڈا سے حالیہ دنوں میں جمع کرائے گئے کووِڈ وائرس کے جینومز کے درمیان سب سے پہلے اس اسٹیلتھ ورژن کو دیکھا گیا، اس میں ایک خاص جینیاتی تبدیلی کی کمی ہے جو لیب پر مبنی پی سی آر ٹیسٹوں کے دوران ممکنہ کیسز کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ دریافت اس وقت سامنے آئی جب برطانیہ میں اصل اومی کرون کے کیسز کی تعداد ایک ہی دن میں 101 سے بڑھ کر 437 ہو گئی اور اسکاٹ لینڈ میں ورک فرم ہوم کا اعلان کیا گیا۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: