ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جانئے کہاں ہوتی ہے ’’ گڑیوں ‘‘ کی اجتماعی پٹائی اور کیوں

گڑیا کا میلہ کسی بڑے تالاب کے کنارے لگتا ہے ۔ اس موقع پر کپڑوں سے بنی ہوئی گڑیوں کے پتلوں کو تالاب کے کنارے جمع کرکے ڈنڈوں سے پیٹا جاتا ہے۔

  • Share this:
جانئے کہاں ہوتی ہے ’’ گڑیوں ‘‘ کی اجتماعی پٹائی اور کیوں
جانئے کہاں ہوتی ہے ’’ گڑیوں ‘‘ کی اجتماعی پٹائی اور کیوں

ہندوستان طرح طرح کی رسموں اور تہواروں کا ملک ہے ۔ اس میں سے بیشتر ایسی رسمیں اور تہوار ہیں جو صدیوں سے چلے آ رہے ہیں ۔ لیکن بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ اب ان رسموں کے خلاف آواز بھی اٹھنے لگی ہے ۔ الہ آباد اور اس کے آس پاس کے اضلاع میں ایک ایسی ہی انوکھی رسم ہے جو صدیوں سے چلی آر ہی ۔ اس رسم کا مظاہرہ ہر سال ناگ پنچمی کے موقع پر کیا جاتا ہے ۔ لیکن اب اکیسویں صدی میں اس رسم کے خلاف خواتین سڑکوں پر نکل آئی ہیں ۔ اس رسم کو مقامی زبان میں ’’ گڑیا  کا میلہ ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ گڑیا کا میلہ یوں تو کسی عام میلے کی طرح ہی ہوتاہے ۔ لیکن اس میلے میں جو رسم ادا کی جاتی ہے ، اس کے خلاف اب آواز بلند ہونے لگی ہے ۔ گڑیا کا میلہ کسی بڑے تالاب کے کنارے لگتا ہے ۔ اس موقع پر کپڑوں سے بنی ہوئی گڑیوں کے پتلوں کو تالاب کے کنارے جمع  کرکے ڈنڈوں سے پیٹا جاتا ہے۔ گڑیوں کو ڈنڈوں سے پیٹنے کا کام عام طور سے مرد کرتے ہیں ۔ اس کے بعد گڑیوں کو تالاب میں پھینک دیا جاتا ہے ۔


مقامی لوگوں میں ایسا عقیدہ ہے کہ ڈنڈوں سے پیٹی گئی گڑیا بد چلن تھی ۔ لہٰذا اس کو اس طرح کی سزا ملنی چاہئے ۔ گڑیوں کی اجتماعی پٹائی کے بعد تالاب کے کنارے لگنے والے میلے میں لوگ جشن مناتے ہیں اور میلے کا لطف اٹھاتے ہیں ۔ گڑیا کا میلہ عام ہندوستانی میلوں کی طرح ہی ہوتا ہے ۔ یعنی گڑیا کے میلے میں کھلونے ، بازی گری ، جھولے ، کھانے پینے کے سامان اور گھریلو ضررتوں کی معمولی اشیا فروخت کی جاتی ہیں ۔ لیکن خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیمیں گزشتہ کئی برسوں سے اس رسم کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہی ہیں ۔


یہ تنظیمیں میلوں میں گڑیوں کی پٹائی کی سخت مخالفت کرتی آرہی ہیں ۔ گڑیا کے میلے کی سختی سے مخالفت کرنے والی تنظیم ’’پرگتی شیل مہیلا سنگٹھن ‘‘ ہر سال ناگ پنچمی کے موقع پر گڑیا کے میلوں کی مخالفت میں جلوس نکالتی ہیں اور اس رسم کو بند کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں ۔ اس بار بھی پرگتی شیل مہیلا سنگٹھن نے گڑیا کے میلے اور اس کی اجتماعی پٹائی کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا ۔ تنظیم کا  کہنا ہے کہ گڑیا کا میلہ در اصل خواتین  کو بدکردار ثابت کرنا اور اس کے خلاف ہونے والے جنسی اور صنفی تشدد کو جائز ٹھرانے کی کوشش ہے ۔


تنظیم کی صدر چندر وتی نشاد کا کہنا ہے کہ گڑیا کا میلہ خواتین کی عزت نفس اور اس کے صنفی وقار کے سخت منافی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ گڑیا کو جمع کرکے تالاب کے کنارے ان کی اجتماعی پٹائی کرنا پورے سماج کیلئے انتہائی شرمناک ہے ۔ اس  طرح کی بری رسموں کی وجہ سے ہی سماج میں بچیوں اور خواتین کے خلاف جنسی تشدد کو بڑھاوا مل رہا ہے ۔ ان کہنا ہے  اس وقت گڑیوں کو ڈنڈوں سے پیٹنے کی نہیں بلکہ ان کیلئے اسکول کھولنے کی ضرورت ہے ۔ چندر وتی نشاد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تہوار اور رسموں کو فوری طور سے بند کر دینا چاہئے ۔

واضح رہے کہ لاک ڈاؤن کے چلتے اس مرتبہ ناگ پنچمی کے موقع پر لگنے والے گڑیا کے میلوں کی اجازت حکومت نے نہیں دی ۔ لیکن لاک ڈاؤن کے با وجود خواتین نے اس رسم کے خلاف زبر دست احتجاج اور ناراضگی کا مظاہرہ کیا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 25, 2020 11:31 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading