ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مولانا محمود مدنی کی پیش کردہ تجویز پر مولاناسید ارشد مدنی امیر الہند بنائے گئے

محمود مدنی گروپ اور جمعیۃ علماء ہند سے الگ ہونے والا جمعیۃ علماء ارشد مدنی گروپ کچھ اس طرح قریب آئے ہیں کہ ایک متوازی تنظیم امارت شرعیہ کے انتخاب میں محمود مدنی کے ذریعہ امیرالہند کے لئے مولانا ارشد مدنی کا نام پیش کیا گیا اور جس پر مہرلگا دی گئی۔ دونوں گروپوں کے درمیان اس کو بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • Share this:
مولانا محمود مدنی کی پیش کردہ تجویز پر مولاناسید ارشد مدنی امیر الہند بنائے گئے
مولانا محمود مدنی کی پیش کردہ تجویز پر مولاناسید ارشد مدنی امیر الہند بنائے گئے

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے دونوں گروپوں جمیعۃ علماء ارشد مدنی گروپ اور جمعیت علماء محمود مدنی گروپ کے درمیان دوریاں کم ہوتی نظر آ رہی ہیں، جس طرح کے اشارے مل رہے ہیں، اس سے  آنے والے وقت میں جمیعۃ میں مزید تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ دراصل مولانا محمود مدنی گروپ اور جمعیۃ علماء ہند سے الگ ہونے والا جمعیۃ علماء ارشد مدنی گروپ کچھ اس طرح قریب آئے ہیں کہ ایک متوازی تنظیم امارت شرعیہ کے انتخاب میں مولانا محمود مدنی کے ذریعہ امیرالہند کے لئے مولانا ارشد مدنی کا نام پیش کیا گیا اور جس پر مہرلگا دی گئی۔ دونوں گروپوں کے درمیان اس کو بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


عرصہ دراز سے دونوں تنظیمیں الگ الگ انداز میں کام کرتی آ رہی ہیں۔ ہر ضلع اور ہر شہر میں دونوں کے اپنے اپنے عہدیداران ہیں۔ جمعیۃ علماء محمود گروپ سے ملی تفصیلات کے مطابق جمعیۃ علماء ہند کے صدر دفتر، نئی دہلی میں واقع مدنی ہال میں امارت شرعیہ ہند کا ایک روزہ نمائندہ اجتماع حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کے زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے امارت شرعیہ ہند کے ارکان شوری، جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران اور منتخب ارباب حل و عقد شریک ہوئے۔


مولانا محمود مدنی کے ذریعہ امیرالہند کے لئے مولانا ارشد مدنی کا نام پیش کیا گیا اور جس پر مہرلگا دی گئی۔
مولانا محمود مدنی کے ذریعہ امیرالہند کے لئے مولانا ارشد مدنی کا نام پیش کیا گیا اور جس پر مہرلگا دی گئی۔


اجتماع میں حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کی وفات کے بعد خالی ’امیر‘ کی جگہ پُرکرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علما ء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی نے اس باوقار منصب کے لئے جامع کمالات شخصیت حضرت مولانا سید ارشد مدنی، صدر جمعیۃ علماء ہند وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند کا نام پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ملی ضروریات میں جن اہم کاموں کو اولیت حاصل ہے، اس میں امارت کا کام بھی شامل ہے، آج مسلم معاشرہ بالخصوص خانگی مسائل میں کافی بگاڑ پیدا ہو گیا ہے، اس کو حل کرنے کے لئے محکمہ شرعیہ کے نظام بڑھانے اور اصلاح معاشرہ کی تحریک کی ضرورت ہے۔ انھوں نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا، جو آج کے اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجتماع میں مولانا حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند نے امیر الہند مرحوم حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری ؒپر ایک تجویز تعزیت پیش کی۔ تجویز میں امیر الہند کے سانحہ ارتحال پر غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کا وجود پوری ملت اسلامیہ کے لئے باعث خیر وبرکت تھا اور ان کی ذات تقوی، دیانت اور حسن انتظام کے اعتبار سے قابل تقلید تھی۔ تائیدات کے بعد صدر اجتماع  حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے حضرت مولانا سید ارشد مدنی کے نام کا اعلان کیا۔ حالانکہ حضرت مولانا مدنی نے اپنی ضعیف العمری کی وجہ سے معذرت ظاہر کی۔ تاہم تمام مجمع کی تائید کے بعد وہ امیر الہند خامس منتخب ہوئے۔ بعد میں شریک علماء، داعیان نیز دیگر حاضرین نے ان کے ہاتھ پر بیعت سمع و طاعت کی۔

بعد ازاں حضرت امیر الہند خامس نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اسلام میں امارت کا بہت بڑ ا مقام ہے۔ اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ملک کے کونے کونے میں محاکم شرعیہ قائم کئے جائیں اور امارت کے نظام کو صوبائی سطح پر مستحکم کیا جائے۔ اس موقع پر اہل مدارس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے مدرسوں میں دارالقضاء کا کورس شروع کریں اور پھر داخل طلباء کو تربیت دے کر محاکم شرعیہ میں مقرر کریں۔ امیر الہند خامس نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے حضرت مفتی سید محمد سلمان منصورپوری استاذ حدیث جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد و جنرل سکریٹری مرکزی دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند کو نائب امیر الہند بنائے جانے کا بھی اعلان کیا، جس کی اجتماع نے تائید کی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 04, 2021 11:32 PM IST