உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممبئی کرائم برانچ کو ملی بڑی کامیابی : انڈرورلڈ ڈان اعجاز لکڑا والا پٹنہ سے گرفتار

    انڈرورلڈ ڈان اعجاز لکڑا والا پٹنہ سے گرفتار۔(تصویر:نیوز18)۔

    انڈرورلڈ ڈان اعجاز لکڑا والا پٹنہ سے گرفتار۔(تصویر:نیوز18)۔

    انڈرورلڈ ڈان اعجازلکڑا والا (Ejaz Lakdawala)کو باقاعدہ طورممبئی کرائم برانچ(Mumbai Crime Branch) نے پٹنہ(Patna) سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیاہے

    • Share this:
    انڈرورلڈ ڈان اعجازلکڑا والا (Ejaz Lakdawala)کو باقاعدہ طورممبئی کرائم برانچ(Mumbai Crime Branch) نے پٹنہ(Patna) سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیاہے،اعجازلکڑاوالا کی گرفتاری سے انڈرورلڈ کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ لکڑوالا کی گرفتاری کے بعد داؤد ابراہیم (Underworld Don Dawood Ibrahim) سے متعلق اہم تفصیلات ملنے کا بھی ممبئی کرائم برانچ نے ظاہر کیا ہے اس سے قبل ممبئی کرائم برانچ نے اعجاز لکڑا والا کی بیٹی سونیا لکڑا والاکو گرفتار کیا تھا اس کے بھائی عقیل لکڑا والا کو بھی گرفتار کیا گیا تھا ان دونوں پرایک بلڈر سے کھار میں ہفتہ طلبی کا بھی الزام ہے اس سے قبل ممبئی ائیر پورٹ سے سونیا لکڑا والا کو جب گرفتار کیا گیا تو اسے فرضی پاسپورٹ کی بنیاد پر گرفتار کیاگیا تھا۔

    ممبئی کرائم برانچ کو اس کی بیٹی سے ہی اعجاز لکڑاوالا کے ٹھکانہ پتہ لگا ہے جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا ہے بتایا جاتا ہے کہ ڈان نیپال سے ہندوستان میں داخل ہو رہا تھا جس کی اطلاع کرائم برانچ کو تھی اس کے بعد ہی اسے پٹنہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر سنجے بروے نے پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعجاز لکڑاوالا کی بیٹی سونیا اڈوانی کے نام سے پاسپورٹ تیار کیا تھا جبکہ اس کا نام شفا لکڑاوالا ہے اس کے بعد سے ہی کرائم برانچ نے اسے 28 دسمبر کو گرفتار کیا تھا اس سے ہی اس کے والد لکڑاوالا سے متعلق کئی اہم سراغ ملے تھے۔

    یہ بھی پڑھیں : شہریت ترمیمی قانون پراحتجاج: سپریم کورٹ نے کیا یہ بڑا ریمارک، سماعت کو لیکر کیا یہ فیصلہ

    گرفتاری سے بچنے کیلئے اعجاز لکڑا والا نے کئی فرضی ناموں سے دستاویزات بھی تیار کئے تھے اس کے علاوہ اس کی لڑکی نے بھی فرضی نام سے پاسپورٹ تیار کیا تھا یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب اس کی بیٹی کو گرفتار کیا گیا تھا۔جوائنٹ پولیس کمشنر کرائم سنتوش رستوگی نے بتایا کہ انڈورلڈ ڈان اعجاز لکڑا والا کی تفصیل اس کی بیٹی سے ملی تھی اور اس کے بعد کرائم برانچ نے اس پر کام کیا ہے جبکہ کئی اہم سراغ کرائم برانچ کے پاس پہلے سے ہی تھے جبکہ 6 ماہ سے اس آپریشن پر کام جاری تھا۔

    سنتوش رستوگی نے مزید تایا کہ 2008-2009 ء میں ہی اعجاز لکڑاوالا نے چھوٹا راجن سے علیحدگی اختیار کی تھی اس کے بعد ہی اس نے اپنے کئی ٹھکانے تبدیل کئے ہیں اور وہ کینڈا, ملیشیا اور نیپال میں بھی روپوش تھا اس نے کئی ناموں سے سفر کیا اس کے دستاویزات بھی کئی ناموں سے موجود ہے جبکہ اس کا اصل نام اعجاز یوسف لکڑا والا ہے جب پٹنہ میں اسے گرفتار کیا گیا تو اس کی شناخت کیلئے کرائم برانچ نے اس کے فنگر پرنٹ بھی لیا اور پھر پایا کہ یہی اعجاز لکڑاوالا ہے جس کی تلاش ممبئی کرائم برانچ کوکئی برسوں سے ہے۔
    First published: