لکھنؤ: کشمیری نوجوانوں کے ساتھ مارپیٹ کا معاملہ، ایک ملزم گرفتار

گذشتہ شب لکھنؤ میں ڈالی گنج پل پر دو کشمیری نوجوان ڈرائی فروٹ فروخت کرنے کے لئے پل پر اپنی چھوٹی موٹی دوکان لگا ئے ہوئےتھے تبھی ایک کار میں سوار بھگوادھاری کپڑے زیب تن کئے ہوئے چار نوجوان لاٹھی ڈنڈوں سے ان کی پٹائی کرنے لگے

Mar 07, 2019 04:23 PM IST | Updated on: Mar 07, 2019 04:27 PM IST
لکھنؤ: کشمیری نوجوانوں کے ساتھ مارپیٹ کا معاملہ، ایک ملزم گرفتار

لکھنؤ: کشمیری نوجوانوں کے ساتھ مارپیٹ کا معاملہ، ایک ملزم گرفتار

اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے ڈالی گنج علاقے میں میوہ جات فروخت کرنے والے کشمیری کاروباریوں کے ساتھ مارپیٹ اور گالم گلوج کرنے والے ہندو وادی تنظیم کے ایک رکن کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے جب کہ دوسرا ملزم فرار ہے۔ سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ(ایس ایس پی) کلا ندھی نیتھانی نے جمعرات کو بتایا کہ اس معاملے میں بجرنگ سونکر نامی شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے جب کہ دوسرے ملزم امر مشر کو بھی جلد ہی پولیس گرفتار کر لے گی۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ شب لکھنؤ میں ڈالی گنج  پل پر دو کشمیری نوجوان ڈرائی فروٹ فروخت کرنے کے لئے پل پر اپنی چھوٹی موٹی دوکان لگا ئے ہوئےتھے تبھی ایک کار میں سوار بھگوادھاری کپڑے زیب تن کئے ہوئے چار نوجوان اس گاڑی سے اترے اور ان پر پتھر باز ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ان سے گالم گلوج کی اور لاٹھی ڈنڈوں سے ان کی پٹائی کرنے لگے۔ بعد ازاں کچھ مقامی افراد نے مداخلت کرکے ان دونوں کو بچایا تھا۔ واقعہ کے تھوڑی دیر بعد ہی اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

اس معاملے کے متأثر کشمیر کے اننت ناگ کے رہنے والے افضل نے بتایا کہ وہ وزیر گنج علاقے میں رہ کر سڑکوں پر میوے  فروخت کرتا ہے۔ معمول کے مطابق بدھ کی شام بھی وہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ڈالی گنج پل پر میوہ فروخت کررہے تھے اسی درمیان کار سوار تین سے چار لوگ وہاں پہنچ گئے۔ افضل کے مطابق سبھی لوگوں نے بھگوا رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے اور ان کے کندھوں پر اسی رنگ کے گمچھے بھی تھے۔ ان لوگوں نے افضل و اس کے دونوں ساتھیوں پر مشتبہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ہاتھا پائی شروع کردی۔ اس درمیان ملزموں نے کشمیری نوجوانوں سے ان کا شناختی کارڈ مانگا ۔ لیکن افضل کے آدھار کارڈ کی فوٹوکاپی دکھانے پر اسے فرضی بتاتے ہوئے ان کے ساتھ مارپیٹ شروع کردی۔

دلچسپ بات یہ  ہے کہ چشم دیدوں کے مطابق اس پورے معاملے کے ملزموں کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے پولیس افضل کو ہی تھانے لے گئی۔ وہیں ملزم بھگوادھاری بڑے آرام سے وہاں سے چلے گئے۔ حسن گنج  پولیس نے افضل سے پوچھ گچھ کرنے بعد اس سے لکھا پڑھی کر نے کے بعد اسے ایک شناشا کے حوالے کردیا۔ وہیں ان کشمیری نوجوانوں پر حملہ کرنے والے ان بھگوادھاری ملزموں نے اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹ ڈال کر اس کا جشن بھی منایا۔ یہ نوجوان اپنے آپ کو وشو ہندو دل کا رکن بتاتے ہیں۔ فیس بک پر اس دل کے ریاستی صدر ہمانشو اوستھی نے ایک پوسٹ بھی لکھی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے ویڈیو کو دیکھ کر پولیس حرکت میں آئی۔

Loading...

Loading...