پریا پرکاش کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی، آنکھ مٹکانے کو بتایا اسلام میں حرام

کجراری آنکھوں والی جنوبی ہند کی اداکارہ پریا پرکاش کے خلاف حیدرآباد کے دو لوگوں نے 'خدا کی توہین' کا الزام لگایا ہے۔

Apr 09, 2018 11:15 AM IST | Updated on: Apr 09, 2018 11:15 AM IST
پریا پرکاش کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی، آنکھ مٹکانے کو بتایا اسلام میں حرام

جنوبی ہند کی اداکارہ پریا پرکاش واریر: فائل فوٹو۔

نئی دہلی۔ کجراری آنکھوں والی جنوبی ہند کی اداکارہ پریا پرکاش واریر کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ پریا کے خلاف حیدرآباد کے دو لوگوں نے 'خدا کی توہین' کا الزام لگایا ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں ایک درخواست داخل کی گئی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ 'آنکھیں مٹکانا اورآنکھ مارنا اسلام کے خلاف ہے۔

بار اینڈ بینچ کے مطابق، سپریم کورٹ میں دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس گانے میں ' قابل اعتراض منظر' شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس گانے کے بول کو جن مناظر کے ساتھ فلمایا گیا وہ 'ایش نندا‘ جیسا ہے۔

وہیں، اس فلم کے ڈائریکٹر عمر لولو کا کہنا ہے کہ یہ گانا شمالی کیرالہ کے مالابار میں ہر شادی یا تقریب میں گایا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، 'مالابار کے مسلمان 1978 سے اس گیت کو گا رہے ہیں۔ یہ تب قابل اعتراض نہیں تھا، تو اب یہ کیسے ہوگیا؟

دراصل، کیرالہ کی رہنے والی ملیالم فلم اداکارہ پریا پرکاش کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا جس میں وہ کجراری آنکھوں سے اپنے بوائے فرینڈ کو آنکھ مارتے نظر آئی تھیں۔ یہ ویڈیو آنے کے بعد پریا پرکاش راتوں رات مشہور ہو گئی تھیں۔

Loading...

اس کے بعد پریا پرکاش کے دو مزید ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک ویڈیو میں وہ کلاس روم میں اپنے بوائے فرینڈ کو آنکھ اور ہاتھ سے نشانہ بناتی نظر آتی ہیں جبکہ دوسرا ویڈیو ہولی پر جاری کیا گیا تھا۔

پریا پرکاش کے خلاف اس سے پہلے بھی کیس درج ہو چکا ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر اس نئی درخواست میں، 'مینیکیہ ملارایا پووی' گانے کو فلم سے ہٹانے کی مانگ کی گئی ہے۔

Loading...