ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

فیس بک کے ذریعہ آن لائن فراڈ کے معاملات میں اضافہ ، جانئے کہاں درج کریں شکایت اور کیسے بچیں ؟

حال ہی میں فیس بک کے ذریعہ آن لائن دھوکہ دہی کے ہزاروں واقعات سامنے آئے ہیں ۔ لیکن یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ آن لائن فراڈ کیسے ہوتا ہے ۔

  • Share this:
فیس بک کے ذریعہ آن لائن فراڈ کے معاملات میں اضافہ ، جانئے کہاں درج کریں شکایت اور کیسے بچیں ؟
علامتی تصویر

آن لائن فراڈ کے اس کالے بازار میں ویسے تو زیادہ تر عام اور سیدھے سادے لوگ شکار بنتے ہیں ، لیکن اب یہ دھوکہ دہی اعلی سطح پر ہونی شروع ہوگئی ہے ۔ ایم ایل اے سے ایس پی اور ڈی ایس پی تک اس کا شکار ہو رہے ہیں ۔ حالیہ معاملہ گجرات کے جمال پور میں پیش آیا ہے۔


گجرات کے جمال پور کے کانگریس کے ایم ایل اے عمران یوسف بھائی کھیڑاوالا نے فیس بک فراڈ کے حوالے سے سائبر سیل میں ایف آئی آر درج کروائی ہے ۔ دراصل ان کے دوستوں نے فیس بک پر ان کے نام پر بنائے گئے ایک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ دیکھی ۔ پوسٹ میں لکھا تھا : میں ابھی گاندھی نگر میں ہوں اور مجھے فوری طور پر 30 ہزار روپے کی ضرورت ہے ۔ آپ دئے گئے نمبر پر گوگل پے یا پی ٹی ایم کرسکتے ہیں ۔ کھیڑاوالا کے دوستوں کو لگا کہ اگر انہیں رقم کی ضرورت ہوتی تو فون کرتے یا کسی کو بولتے ، ایسے فیس بک پوسٹ کرکے پیسے کیسے مانگ سکتے ہیں ۔


جب دوستوں نے تصدیق کرنے کے لئے کھیڑاوالا کو فون کیا تو پتہ چلا کہ انہوں نے یہ پوسٹ نہیں کی تھی بلکہ ان کی تصویر اور ذاتی تفصیلات کا استعمال کرتے ہوئے ایک جعلی اکاؤنٹ بنایا گیا ہے اور جعلی اکاؤنٹ سے رقم مانگی جارہی تھی ۔ اس کے بعد ایم ایل اے کھیڑاوالا نے سائبر سیل میں ایف آئی آر درج کروائی ۔


بھونیشور میں بھی ایسا ہی ایک معاملہ سامنے آیا  اور اس کا شکار کوئی اور نہیں ، لیکن بھونیشور کے پولیس کمشنر سودھانشو سارنگی بنے ۔ دراصل سائبر مجرموں نے سدھانشو سارنگی کا فیس بک اکاؤنٹ بنایا اور ان کی تصویر اور اکاؤنٹ کی تفصیلات کا استعمال کرتے ہوئے رقم کا مطالبہ کرنا شروع کردیا ۔

بعدازاں ، سودھانشو سارنگی نے فیس بک یوزرس سے اپیل کی کہ وہ ایسے اکاؤنٹ میں رقم منتقل نہ کریں جو ان کی تصویر اور تفصیلات کا استعمال کرکے رقم مانگ رہا ہو ۔ پولیس کمشنر سدھانشو سارنگی نے کہا کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک نہیں ہوا ہے ، بلکہ کوئی ان کی تصویر کا استعمال کرکے نیا اکاؤنٹ بناکر لوگوں سے پیسے مانگ رہا ہے۔

اوڈیشہ پولیس کے ڈی آئی جی انوپ کمار نے بھی فیس بک پر ایسی ہی پوسٹ کی اور لوگوں کو آن لائن دھوکہ دہی سے بچنے کے لئے متنبہ کیا ۔ اسی طرح ، ممبئی کی ایک خاتون جولائی میں فیس بک پر 11 لاکھ روپے کی آن لائن دھوکہ دہی کا شکار ہوگئی تھی ۔

پیسوں کی ٹھگی کیسے ہوتی ہے؟

حال ہی میں ، فیس بک کے ذریعہ آن لائن دھوکہ دہی کے ہزاروں واقعات سامنے آئے ہیں ۔ لیکن یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ آن لائن فراڈ کیسے ہوتا ہے ۔

فیس بک میسنجر کی پرسنل چیٹ میں اگر آپ کا کوئی قریبی دوست یا رشتہ دار آپ کو میسج کرتا ہے کہ اس کو فوری طور پر کچھ رقم کی ضرورت ہے ، وہ آج کل میں آپ کو پیسے لوٹا دے گا ، تو آپ کا کیا جواب ہوگا؟ اگر اس نے بہت زیادہ پیسے نہیں مانگے ہیں تو پھر بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ فورا اس کو پیسے ٹرانسفر کردیں ۔ لیکن ٹرانسفر کرنے کے بعد جب آپ اپنے دوست کو فون کرکے پیسے مانگیں تو آپ کو پتہ چلے کہ آپ آن لائن دھوکہ دہی کا شکار ہوگئے ہیں ۔

پچھلے 6 مہینوں میں اس طرح کے واقعات میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ آن لائن جعلسازوں نے تو پہلے اکاؤنٹ ہیک کرنے کی کوشش کی اور پھر اس کی فرینڈ لسٹ میں گیا اور دوستوں سے رقم مانگی ۔ یہ معاملات اتنی تیزی سے بڑھے کہ اب لوگ خود بھی بیدار ہونے شروع ہوگئے ہیں ۔ لیکن آن لائن جعلسازوں نے اب ایک نیا راستہ ڈھونڈ لیا ہے ۔ اب وہ کسی مشہور شخصیت ، بڑے سیاستدان ، بڑے سرکاری عہدیدار یا پولیس افسر کی جعلی آئی ڈی بنا کر ، ان کی تصاویر اور پوسٹوں کا استعمال کرکے فیس بک پر کسی بھی ضروری کام یا عوامی کام کے نام پر پیسے مانگتے ہیں ۔ لوگ آفیشل اکاؤنٹ سمجھ کر پیسے ٹرانسفر بھی کردیتے ہیں ۔

پیسوں کی ٹھگی یا آن لائن فراڈ صرف فیس بک تک ہی محدود نہیں ہے ۔ وہاٹس ایپ اور اولیکس کے ذریعہ بھی آن لائن فراڈ کے معاملات سامنے آئے ہیں ۔

آن لائن دھوکہ دہی کا شکار ہونے پر کیا کریں؟

اگر آپ آن لائن دھوکہ دہی کا شکار ہوتے ہیں تو آپ نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (www.cybercrime.gov.in) پر شکایت درج کرا سکتے ہیں ۔

اس ویب سائٹ پر دو طرح کی شکایات درج کی جاسکتی ہیں ۔ خواتین یا بچوں سے وابستہ جرائم اور دوسرے آن لائن فراڈ ۔ آپ اس پورٹل پر اپنا نام ، موبائل نمبر دے کر خود کو رجسٹر کرسکتے ہیں اور اپنی شکایت درج کرسکتے ہیں ۔ شکایت کرتے وقت آپ کو کچھ ثبوت دینے ہوں گے ۔ جیسے :

• Credit card receipt
• Bank statement
• Envelope (if received a letter or item through mail or courier)
• Brochure/Pamphlet
• Online money transfer receipt
• Copy of email
• URL of webpage
• Chat transcripts
• Suspect mobile number screenshot
• Videos
• Images
• Any other kind of document

آپ کے ذریعہ شکایت درج کرنے کے بعد معاملہ کو متعلقہ ریاست میں منتقل کردیا جاتا ہے ، جہاں مزید تفتیش ہوتی ہے ۔ اس ویب سائٹ پر آپ جانچ کی پیشرفت بھی پتہ کرسکتے ہیں ۔ ویب سائٹ پر رپورٹ اینڈ ٹریک کا ایک آپشن موجود ہے جہاں آپ دیکھ سکتے ہیں ۔

کیا شکایت واپس لی جاسکتی ہے ؟

اگر شکایت خواتین یا بچوں کے جرائم سے متعلق ہے تو پھر اس کو  واپس نہیں لیا جاسکتا ہے ، لیکن اگر یہ دوسرے طرح کی آن لائن دھوکہ دہی ہے تو پھر اسے واپس لیا جاسکتا ہے ۔ لیکن یہ تب تک ہی ممکن ہے جب تک کہ آپ کی شکایت ، ایف آئی آر میں نہ بدلی ہو ۔ یعنی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد آپ اسے واپس نہیں لے سکتے ہیں ۔

فیس بک کی گائیڈلائنس کیا ہیں؟

آن لائن فراڈ ہونے پر فیس بک براہ راست طور کوئی کارروائی نہیں کرسکتا ۔ صرف متعلقہ پوسٹس کو ہٹا سکتا ہے ۔ لیکن فیس بک نے ہیلپ سیکشن میں آن لائن دھوکہ دہی سے بچنے کیلئے کچھ طریقوں کا ذکر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ دھوکہ دہی کو 5 کٹیگری میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

1. Romance Scam
2. Lottery Scams
3. Loan Scams
4. Access Token Theft
5. Job Scams

اگر ہم اپنے آس پاس دیکھیں ، تو زیادہ تر معاملات رومانس ، لاٹری اور نوکری سے متعلق ہیں ۔ اگر آپ آن لائن بہت زیادہ سرگرم ہیں تو پھر یہ ضروری ہے کہ آپ کچھ چیزوں کو ذہن میں رکھیں ۔

1۔ اگر کوئی ایسا شخص آپ سے رقم مانگ رہا ہو ، جس کو آپ ذاتی طور پر نہیں جانتے ہوں ۔

2 اگر کوئی آپ کو پیسے دینے ، گفٹ کارڈز دینے ، قرض یا نقد انعام دینے کی بات کررہا ہو ۔

3۔ اگر کوئی آپ سے ملازمت کی درخواست جمع کروانے کے لئے فیس مانگ رہا ہو ۔

4 کوئی شخص آپ کے رشتہ دار یا دوست کا نام لے کر پیسہ مانگے ، یہ کہہ کر کہ آپ کا دوست سنگین حالت میں ہے ، علاج کیلئے پیسے چاہئیں ۔

5 ایسے پیغامات یا فیس بک پوسٹس جن میں زبان کی غلطیاں ہوں ۔

اگر آپ ان باتوں کا خیال رکھیں تو کافی حد تک آپ لائن فراڈ سے بچ سکتے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 13, 2020 07:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading