ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

صرف بیان بازیوں سے نہیں بدلیں گے اقلیت کے حالات ، سیاسی جماعتیں مصلحت کی اسیر

ایک طرف فرقہ پرست طاقتیں ملک کو مذہبی نفرت کی آگ میں جھونکنے کے لئے سبھی حربے استعمال کررہی ہیں تو دوسری جانب حزب اختلاف کی مصلحت آمیز خاموشی نے مسائل کو مزید پیچیدہ بنادیاہے ۔

  • Share this:
صرف بیان بازیوں سے نہیں بدلیں گے اقلیت کے حالات ، سیاسی جماعتیں مصلحت کی اسیر
صرف بیان بازیوں سے نہیں بدلیں گے اقلیت کے حالات ، سیاسی جماعتیں مصلحت کی اسیر

لکھنئو : محض سیاسی بیان بازی کرتے رہنے سے مسلم مسائل کا حل ممکن نہیں ہے ۔ ایک طرف فرقہ پرست طاقتیں ملک کو مذہبی نفرت کی آگ میں جھونکنے کے لئے سبھی حربے استعمال کررہی ہیں تو دوسری جانب حزب اختلاف کی مصلحت آمیز خاموشی نے مسائل کو مزید پیچیدہ بنادیاہے ۔ راشٹریہ لوک دل کے ریاستی ترجمان انل دوبے کہتے ہیں کہ مرکزی حکومت نے لوگوں کی غلط فہمیاں دور کرنے کی بجائے ان کو فساد میں تباہ کردیا ۔ بی جے پی کے اراکین اور ان کی ہمنوا تنظیموں سے منسلک شر پسندوں نے جو تشدد برپا کیا اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ۔ لیکن جب انل دوبے سے یہ پوچھا گیا کہ راشٹریہ لوک دل نے اس فساد اور اقلیت پر ہونے والے ظلم وتشدد کے تدارک کے لئے کیا قدم اٹھائے ، تو ان کی جانب سے سوال کے جواب میں پھر ایک بیان ہی ملا ۔


پرگتی شیل سماج وادی پارٹی کے ترجمان دیپک مشرا کے مطابق اتر پردیش میں جرائم حدوں سے تجاوز کرچکاہے ۔ یہاں آئین و قانون نام کی کوئی چیز نہیں ، کرائم کے ساتھ بدعنوانیان بڑھی ہیں ، خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے  ۔ لیکن کیا صرف ڈرائنگ روم  میں بیٹھ کر مذمت کرنے سے یہ مسائل حل ہوپائیں گے؟


اسی طرح کے خیالات کا اظہار کانگریس کے ریاستی ترجمان انوپ پٹیل نے بھی کیا ۔ انوپ پٹیل کے مطابق مسلم طبقہ کو مختلف بنیادوں پر زدوکوب کیا جارہا ہے  ،پریشان کیا جارہا ہے اور اس عمل میں موجودہ حکموت پولس کو مشینری کی طرح استعمال کرکے آئین وقانون اور دستور کی دھجیاں اڑا رہی ہے ۔ مظلوموں کی بات کوئی سننے والا نہیں ، پولس حکمران پوری طرح حکومت کے دبائو میں کام کرکے ملک میں مذہبی بنیادوں پر پھیلائی جارہی نفرتوں کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کررہے ہیں ۔


مت داتا جاگروک سنگھ ، امامیہ ٹرسٹ اور اکھل بھارتیہ پچھڑا ورگ مہاسنگھ نے ملک کی موجودہ صورت حال اور مسلمانوں، دلتوں اور کمزوروں کے استحصال کے لئے موجودہ حکومت کے ساتھ ساتھ ان جماعتوں کو بھی برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ، جو مصلحتوں کی اسیر ہوکر صرف بیان تو جاری کررہی ہیں لیکن زمینی سطح پر نہ کوئی کام کررہی ہیں اور نہ صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے ضروری اقدامات ۔
First published: Mar 14, 2020 05:31 PM IST