உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    OPINION | احتجاج کے نام پر تجارتی اثاثے برباد ہوتے رہے تو کیا ہندوستان ترقی کر پائے گا؟

    مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے آج یہاں کاشتکاروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسان تنظیموں کو کوئی اعتراض ہے تو وہ 19 جنوری کو ہونے والے مذاکرات میں نئے زرعی قوانین (New Farm Laws) کی شقوںپر تبادلہ خیال کریں۔

    مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے آج یہاں کاشتکاروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسان تنظیموں کو کوئی اعتراض ہے تو وہ 19 جنوری کو ہونے والے مذاکرات میں نئے زرعی قوانین (New Farm Laws) کی شقوںپر تبادلہ خیال کریں۔

    ہندوستان کے بڑے بزنس گھرانوں کے خلاف جان بوجھ کر چلائی گئی گمراہ کن مہم سے آخر کون فائدہ اٹھائے گا ؟

    • Share this:
      پاتھیکرت پین

      کسان آندولن کے نام پر ہزاروں ٹیلی کام ٹاور توڑنے کا فائدہ آخر کس کو ہوگا؟ آئی فون کے کنٹریکٹ مینوفیکچرر کی فیکٹری میں تشدد سے آخر کس کو فائدہ ہوگا ؟ وہ بھی ایسے وقت میں جب حکومت انٹرنیشنل کمپنیوں کو چین سے ہندوستان میں اپنا پروڈکٹ بیس منتقل کرنے کیلئے کوششیں کررہی ہے ۔ ہندوستان کے کاروباری گھرانوں کے خلاف جان بوجھ کر چلائی گئی گمراہ کن مہم سے آخر کون فائدہ اٹھائے گا ؟ اگر سرمایہ کاروں کا ہندوستان میں بھروسہ ٹوٹتا ہے تو آخر کس کو فائدہ ہوگا؟

      آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں ۔ اکتوبر 2020 میں ریلائنس نے اعلان کیا کہ اس نے چپ میکر Qualcomm کے ساتھ کولابریشن کیا ہے ۔ اسی مہینے کی شروعات میں مکیش امبانی نے انڈین موبائل کانگریس میں اعلان کیا کہ ریلائنس جیو 2021 کی دوسری ششماہی میں فائیو جی پر کام کرنا شروع کردے گا ۔ ہندوستان میں موبائل فون کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا جب کسی ہندوستانی کمپنی نے ایک نئے دور کا اعلان کیا تھا ۔ اس کے بعد ہندوستان کو نیٹ ورک ڈیولپمنٹ کیلئے چینی ٹیلی کام انفراسٹرکچر پر منحصر نہیں رہنا پڑے گا ۔ حقیقت میں ہندوستان کیلئے یہ فخریہ لمحہ تھا ۔

      یہاں تک کہ کورونا وبا کے قہر کے دوران بھی عالمی اقتصادی بحران کے درمیان ریلائنس جیو نے 25 فیصد شیئر فروخت کرکے 1.18 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کروائی ۔ اس سے کمپنی کی انٹرپرائز ویلیو 5.16 لاکھ کروڑ کی ہوگئی ۔ یہ حال فی الحال کسی بھی ہندوستانی کمپنی میں آنے والی سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری تھی ۔

      اس سے پہلے بھی ریلائنس جیو ٹیلی کام ریٹ اور ڈیٹا چارجیز میں زبردست کمی لاکر پوری انڈسٹری میں انقلاب لا چکا تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ کم انکم والے ہندوستانی لوگوں کیلئے براڈ بینڈ کی سہولت کا استعمال کرنا اور زیادہ آسان ہوگیا ۔

      لیکن ان سب کے بعد یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو برباد کیا جارہا ہے ۔ کیا ریلائنس جیسی کمپنی کو فائیو جی کی تمنا کیلئے نشانے پر لیا جارہا ہے؟

      اس لئے کسی کے بھی ذہن میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ کیا جامع انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کے پیچھے کوئی اور مقصد کام کررہا ہے ۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب ہندوستان اپنی معیشت سے چین کو الگ کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ ملک کوشش کررہا ہے کہ معیشت کی رفتار دہائی میں ہو ، جس سے ملک دس ٹریلین ڈالر معیشت کلب کا حصہ بن سکے ۔

      ایسے وقت میں جب دنیا نئے کاروباری افراد کا جم کر احترام کررہی ہے ۔ ساتھ ہی اس نے ہندوستان کے کچھ بڑے کاروباری افرد اور کاروباری گھرانوں کو پہچاننا بھی شروع کردیا ہے ۔ وہ بھی ایسے صنعت کار جنہوں نے انتہائی معمولی ماحول سے اپنی شروعات کی تھی اور ہندوستان کو اقتصادی طاقت بنانے میں مدد کی ہے ۔ ایسے میں ہندوستانی صنعت کاروں کو نشانہ پر لینے اور انفراسٹرکچر تباہ کرنے کی سبھی سیاسی پارٹیوں کو تنقید کرنی چاہئے ۔ خواہ وہ کسی بھی نظریہ سے تعلق رکھتی ہوں ۔

      ( Pathikrit Payne کا یہ مضمون انگریزی میں ہے ۔ اس کو یہاں کلک کرکے پورا پڑھا جاسکتا ہے ۔ )
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: