உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Opinion | کسانوں کے مظاہرہ کے بہانے ہندوستان میں چین کے ایجنٹ لڑ رہے ہیں پراکسی وار

    Opinion | کسانوں کے مظاہرہ کے بہانے ہندوستان میں چین کے ایجنٹ لڑ رہے ہیں پراکسی وار

    Opinion | کسانوں کے مظاہرہ کے بہانے ہندوستان میں چین کے ایجنٹ لڑ رہے ہیں پراکسی وار

    تاریخ گواہ ہے کہ جب چین نے 1962 میں ہندوستان پر حملہ کیا تھا ، اس وقت بائیں بازوں کا ایک بڑا طبقہ اپنے ملک کی جگہ دشمن کی حمایت میں کھڑا ہوا تھا ۔ کسانوں کے کندھے پر بندوق رکھ کر آندولن کی آگ بھڑکانے کی کوشش کررہے نکسلی سوچ والوں کی یہ جماعت پھر سے وہی کام کررہی ہے ، جس سے ملک کے سب سے بڑے دشمن چین کو مزہ آجائے ۔

    • Share this:
      برجیش کمار سنگھ 

      تاریخ گواہ ہے کہ جب چین نے 1962 میں ہندوستان پر حملہ کیا تھا ، اس وقت بائیں بازوں کا ایک بڑا طبقہ اپنے ملک کی جگہ دشمن کی حمایت میں کھڑا ہوا تھا ۔ کسانوں کے کندھے پر بندوق رکھ کر آندولن کی آگ بھڑکانے کی کوشش کررہے نکسلی سوچ والوں کی یہ جماعت پھر سے وہی کام کررہی ہے ، جس سے ملک کے سب سے بڑے دشمن چین کو مزہ آجائے ۔

      سردار پٹیل کو ہندوستان کی سیاست کا سب سے دور اندیش شخص مانا جاتا ہے ۔ سردار جہاں اپنی قوت ارادی کیلئے جانے جاتے تھے ، وہیں مستقبل کو واضح طور پر دیکھنے کی صلاحیت کے حامل بھی تھے ۔ ان کی شخصیت کی یہی خاصیت تھی ، جس کے دم پر انہوں نے نہ صرف ساڑھے پانچ سو سے زیادہ راجواڑوں کا ہندوستان میں انضمام کرانے میں کامیابی حاصل کی ، بلکہ چین سے ہندوستان کو محتاط رہنے کا مشورہ بھی دیا ۔

      سردار پٹیل کی موت کے سات دہائیوں بعد بھی ان کی وارننگ پہلے سے زیادہ ہم آہنگ ہے ۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو سردار کے مشورہ پر دھیان نہیں دینے کی قیمت 1962 میں ملک کی سب سے شرمناک شکست کے طور پر چکانی پڑی تھی ، وہ بھی اس ملک چین کے ہاتھوں ، جس کی قیادت کے ساتھ وہ گلبہیاں کررہے تھے ۔ ہندی ۔ چینی بھائی بھائی کے نعرے کے ساتھ ۔ سردار نے اپنی موت سے کچھ پہلے 1950 میں نہرو کو طویل خط لکھ کر چین کے معاملہ میں خبردار کیا تھا ، لیکن اس مشورہ پر نہرو کے دھیان نہیں دینے کی قیمت آزاد ہندوستان نے کسی دشمن ملک کے سامنے پہلی اور آخری ہار کے طور پر چکائی ۔

      وقت آگیا ہے کہ جب ملک سردار کے باقی مشوروں پر بھی غور کرے ۔ سردار نے ملک میں بائیں بازو کے تخریبی رجحانات کے بارے میں خبردار کیا تھا ۔ سردار کی زندگی میں آزادی کے فورا بعد تلنگانہ کے علاقہ میں طبقاتی جدوجہد کے نام پر لیفٹ عدم استحکام پیدا کرنے میں لگے ہوئے تھے ۔ بائیں بازو کے لوگوں کے بارے میں سردار کو بخوبی اندازہ تھا ، اس لئے انہوں نے پوری مضبوطی کے ساتھ اس آندولن کو کچل ڈالا ۔ بائیں بازو کی سرگرمیوں اور ملک مخالف رجحانات کے بارے میں ملک کو بھی اندازہ ہوا ، جب 1962 میں چین کے ساتھ لڑائی ہوئی ۔ دشمن چین کو اپنی کھلی حمایت دینے میں بائیں بازو کا ایک بڑا طبقہ مصروف ہوگیا ۔ اتنی کھلی حمایت کہ چین کا پرچم ڈھوتے ڈھوتے ایک پوری پارٹی وجود میں آگئی ۔ سی پی آئی ایم ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسوادی) پرانی سی پی آئی سے ناطہ توڑ کر ۔

      کسانوں کے موجودہ آندولن میں بھی اسی سی پی ایم کی قیادت میں بائیں بازو کا جھنڈ اپنی روٹی سینکنے میں لگا ہوا ہے ۔ اس آندولن کے بہانے راجدھانی دہلی سمیت ملک کو غیر مستحکم بنانے کی سازش رچی جارہی ہے ۔ جھنجھلاہٹ زیادہ اس لئے بھی ہے کیونکہ اقتدار کا بالواسطہ یا بلاواسطہ عیش و آرام ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے ۔ ایک کے بعد ایک لیفٹ قلعے منہدم ہوتے جارہے ہیں ۔ کبھی مغربی بنگال میں دو دہائی سے بھی زیادہ وقت تک مسلسل حکومت کرنے والی لیفٹ پارٹیاں آج وہاں لڑائی سے ہی باہر ہیں ۔ جب ریاست میں اسمبلی انتخابات ہورہے ہیں ۔ تری پوری میں بھی گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران پارٹی کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ، جہاں مانک سرکار کی قیادت میں لیفٹ نے کئی دہائیوں تک حکومت کی تھی ۔ کبھی کانگریس مخالفت کے نام پر سیاست کرنے والی لیفٹ پارٹیوں نے سہولت کے حساب سے اس کے ساتھ مل کر بھی اقتدار کی ملائی کھائی ۔ پچھلی مثال یوپی اے حکومت کی ہے جب 2004 سے 2009 کے درمیان لیفٹ پارٹیوں کے اشارے پر منموہن سنگھ کی سرکار کٹھ پتلی کے طور پر ناچ رہی تھی ۔

      لیکن گزشتہ کچھ سالوں میں حالات بدل گے ہیں ۔ خاص طور پر 2014 سے جب سے نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی سرکار مرکز میں آئی ہے ۔ جو ادارے دہائیوں تک بائیں بازو کے مضبوط اڈے بنے رہے ، وہاں سے مودی سرکار نے انہیں باہر کرنا شروع کردیا ہے ۔ یہ حال جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے لے کر آئی سی سی آر تک ، ہر جگہ کا ہے ۔ اسی وجہ سے لیفٹ خیمہ بے چینی محسوس کررہا ہے اور مودی سرکار پر حملہ کرنے کی کوشش میں مسلسل لگا رہتا ہے ۔ پریشانی یہ ہے کہ مودی انہیں موقع دیتے نہیں ہیں ۔ کہنے کیلئے تو مودی سرکار مرکز میں اپنے دم پر آئی رائٹ ونگ کی پہلی سرکار ہے ، لیکن اس سرکار کے فیصلوں اور پالیسیوں کے مرکز میں وہ غریب ، پسماندہ اور استحصال شدہ افراد ہیں، جن کو لیفٹ اپنا مستقل ووٹ بینک مانتا رہا ہے ۔ لیفٹ اب اس بینک کے لوٹ لئے جانے سے گہرے صدے میں ہے ، کیونکہ مودی سرکار کے زمانے میں وہ پورا طبقہ بینیفیشیری کلاس میں تبدیل ہوچکا ہے ، جس کو فائدہ ملا ہے گھر سے لے کر گیس تک اور جو الیکشن درد الیکشن مودی کے ساتھ گول بند ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ بہار اسمبلی کیلئے حال ہی میں ہوئے انتخابات اس کی تازہ مثال ہیں۔

      اس وجہ سے لیفٹ ، جن کی ہندوستان کی سرزمین پر شناخت نکسلی تشدد سے ہورہی ہے ، مسلسل تشدد اور مشتعل ہوتے جارہے ہیں ۔ کسانوں کے کندھے پر بندوق رکھ کر وہ اپنی اسی پرتشدد رجحانات کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کہیں موبائل کے ٹاور توڑے جارہے ہیں تو کہیں دکانوں میں توڑ پھوڑ یا پھر سڑک جام ۔ ان کے سبھی اشتعال انگیز بیانات اور کرتوتوں کے باوجود ملک کے زیادہ تر کسسان ان کی جانب دھیان نہیں دے کر اپنی کھیتی باڑی میں مصروف ہیں تو یہ پنجاب کے کسانوں کے ذریعہ ہی اپنی مراد پوری کرنے میں لگے ہیں ۔ پنجاب کے معصوم کسان ان کے ہاتھ میں ہیں اور یہ اپنی پرتشدد ارادوں کو پورا کرنے کیلئے انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے میں لگے ہیں ۔

      ڈسکلمیر : یہ مضمون نگار کی ذاتی رائے ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: