ہوم » نیوز » وطن نامہ

OPINION | کسانوں کا احتجاج آخر کیوں 'بناوٹی عدم اطمینان ' جیسا نظر آرہا ہے ؟

سب سے پہلے ہم یہ بتادیں کہ ایسے زرعی اصلاحات کی طویل عرصہ سے ملک بھر میں ڈیمانڈ تھی ۔ 2019 کے انتخابات کیلئے کانگریس کے انتخابی منشور میں اسی طرح کے وعدے کئے گئے تھے ۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کا انتخابی منشور بھی یہی چیزیں کہہ رہا تھا ۔

  • Share this:
OPINION | کسانوں کا احتجاج آخر کیوں 'بناوٹی عدم اطمینان ' جیسا نظر آرہا ہے ؟
OPINION | آخر کیوں کسانوں کا احتجاج 'بناوٹی' نظر آرہا ہے ؟

ابھیشیک بنرجی


ہندوستان میں گزشتہ ایک مہینے کے دوران ہمیں ناقابل یقین تصویریں دیکھنے کو ملی ہیں ۔ سخت ٹھنڈ کے درمیان ہزاروں کی تعداد میں کسان دہلی کی سرحد پر ایک ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حال ہی میں پاس کئے گئے تین زرعی قوانین کو رد کیا جائے گا ۔ دیگر الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کسان یہ چاہتے ہیں کہ زرعی پیداوار کی فروخت پر ہر ایک ریاست اور ہرایک ضلع میں بچولیوں کے دہائیوں پرانے اختیار کو بنائے رکھا جائے ۔


یہ ایک بڑا ہی عجیب و غریب معاملہ ہے ۔ ایک کسان ، یا کوئی بھی بچولیوں کو اپنی انکم کا ایک حصہ دینے پر زور کیوں دے گا ؟ اس کے علاوہ ان زرعی اصلاحات نے ہندوستانی کسان سے کوئی موجودہ متبادل نہیں چھینا ہے بلکہ انہیں اس کے بدلے ایک نیا متبادل دیا ہے ۔ لیکن وہ اس آندولن میں نہیں نظر آرہا ہے ۔


سب سے پہلے ہم یہ بتادیں کہ ایسے زرعی اصلاحات کی طویل عرصہ سے ملک بھر میں ڈیمانڈ تھی ۔ 2019 کے انتخابات کیلئے کانگریس کے انتخابی منشور میں اسی طرح کے وعدے کئے گئے تھے ۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کا انتخابی منشور بھی یہی چیزیں کہہ رہا تھا ۔ بھارتیہ کسان یونین نے ہمیشہ مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کو بھارت میں کہیں بھی اپنی پیداوار بیچنے کی اجازت دی جانی چاہئے تو ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر مخالفت کرنے والے لوگ آ کہاں سے رہے ہیں ؟

آئیے اس سوال کے جواب کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ سیاسی پارٹیوں اور یونینوں نے ان اصلاحات کی ضرورت پر طویل عرصہ سے اتفاق ظاہر کیا ہے ۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ گزشتہ سرکاروں نے انہیں لاگو کیوں نہیں کیا ؟ شاید اس لئے کہ یہاں طاقتور لابی ہے ، جو لوگوں کے درمیان عدم اطمینان پیدا کرنے میں اہل ہے ۔ ملک میں منڈیوں اور بچولیوں کے انتظامات دہائیوں سے چلے آرہے ہیں ۔ ہندوستان کے حوالہ سے دیکھا جائے تو ایسے لوگوں کی مقامی اقتدار میں مضبوط گرفت ہے ۔ جب انہیں یہاں سے کھسکانے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ سیاسی پارٹیوں کیلئے خطرہ بن جاتے ہیں ۔

آندولن میں کچھ اہم آوازوں نے مشورہ دیا ہے کہ کسان قانون کی باریکیوں کی بجائے سرکار کے ساتھ ایک عام ٹکراو کی مخالفت کررہے یں ۔ اس وضاحت کو صرف تصوراتی مانا جاسکتا ہے ۔ رواں سال میں زرعی مجموعی گھریلو پیداوار میں اچھا اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ اس مرتبہ مانسون کا اچھا سیزن دیکھنے کو ملا ، اس کا اشارہ اس بات سے بھی مل رہا ہے کہ ٹریکٹر کی فروخت ریکارڈ سطح پر ہے ۔ کسانوں کے درمیان عدم اطمینان پیدا کرنے والے عام حالات ندارد ہیں ۔

ہندوستان میں گزشتہ کچھ وقت سے ایک ٹرینڈ دیکھا گیا ہے ۔ مثلا ہر گھریلو معاملہ خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ، انہیں ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم پر لے جایا گیا ۔ ایسا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملک بڑے بحران کی حالت میں ہے ۔

کیا کسی کو نیٹ ۔ جے ای ای یاد ہے اور کیسے سویڈن سے آنے والے سبھی کارکنان نے اس میں شامل ہونے کی کوشش کی ؟ کسانوں کا موجودہ احتجاج بھی کچھ ایسا ہی نظر آرہا ہے ۔ اس آندولن میں نہ صرف بہار ، بنگال ، کرناٹک ، مہاراشٹر یا تمل ناڈو کے کسان شامل نہیں ہوئے ہیں بلکہ راجستھان ، اترپردیش اور مدھیہ پردیش کے لوگ بھی اس آندولن میں نظر نہیں آرہے ہیں ۔ اس کے باوجود یہ آندولن 36 برٹش ممبر پارلیمنٹ اور یہاں تک کہ کناڈا کے وزیر اعظم کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔

ہمیں پوچھنا ہوگا کہ ان احتجاج کی قیادت کون کررہا ہے اور اس سے کس کو فائدہ ملتا ہے ۔ ان احتجاج میں جو بینر سب سے زیادہ دیکھے جاتے ہیں وہ ہتھوڑا اور درانتی ۔ ہندوستان کی آدھی آبادی زراعت پر منحصر ہے ۔ اگر انہیں کسی سیاسی پارٹی کی طرف جانا ہے تو کیا وہ حقیقت میں کمیونسٹ کی جانب جائیں گے ؟ کیا ہندوستان میں کمیونسٹوں نے بہت پہلے اپنا ماس بیس نہیں کھویا تھا ؟

ان مخالفتوں کا واضح پیمانہ ایک دلیل نہیں ہے ۔ کچھ بھی ہو احتجاج کرنے والوں کی تعداد ان کے ان کے انتخابی حلقہ کے بڑے سائز کے مقابلہ میں بہت کم ہے ۔ ہندوستان کی آدھی آبادی تقریبا ساٹھ کروڑ لوگوں کیلئے کام کرتی ہے ۔ اگر 60 کروڑ لوگوں کو اپنی روزی روٹی کیلئے خطرہ ہے تو یہ ملک فورا انارکی میں ڈوب جاتا ۔ ان قوانین کو پاس ہوئے اب سات مہینے ہوچکے ہیں ۔ ہمارے پاس دس ہزار سے زیادہ مظاہرین ہیں ، جن میں سے زیادہ تر ایک ریاست سے ہیں ۔ وہ ممکنہ طور پر پورے ہندوستان کے کسانوں کی نمائندگی نہیں کرسکتے ہیں ۔ لیکن دنیا بھر کے اخبارات میں جگہ کو بھرنے کیلئے یہ بھیڑ کافی ہے اور حقیقت میں ان کا یہی مقصد نظر آرہا ہے ۔

تو اس سے کس کا فائدہ ہورہا ہے ؟ چین کے مقابلہ ہندوستان کیلئے اچھی بات یہ ہے کہ یہاں جمہوریت ہے ۔ اسی وجہ سے دنیا بھرکے لوگ چینی حکومت کے مقابلہ میں ہمارے ارادوں پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں ۔ چین چاہتا ہے کہ دنیا یہ مان لے کہ ہندوستان کے پاس عدم اطمینان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ، ہم اتنے ہی تاناشاہی کےساتھ ہیں جتنا وہ ہیں ۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ ہندوستان اور چین کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے تو ہم اس فائدہ کو پوری طرح سے کھودیتے ہیں ۔

کیا چین کے ان مفادات کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے ؟ کیا ہندوستانی کمیونسٹوں اور چین کی حکومت کے درمیان کے فیزیکل لنک کو اندیکھا کیا جاسکتا ہے ؟ ان مظاہروں کے دوران سارے متضادات پرائیویٹ انٹرپرائز سے ہدایت یافتہ معلوم ہوتے ہیں ۔ لیکن زیادہ خاص طور پر بڑے ہندوستانی کاروبار ۔ چینی کاروباروں کی مخالفت یا بائیکاٹ کی کوئی اپیل نہیں ہے۔ در حقیقت اس لابی نے چین کے ایپس پر پابندی اور خود کفیل ہندوستان کا مذاق اڑایا تھا۔

غیر ملکیوں کا نام آنے سے بدنامی ہوتی ہے ۔ اس سے پہلے سرکاروں نے اپنی خامیوں کو دور کرنے کیلئے ایک غیر ملکی ہاتھ کی بات کہی ہے ۔ اس لئے وہ اکثر کہتے ہیں کہ غیر ملکی ہاتھ کی بات کرنا بھیڑیا رونے جیسا ہے ۔ لیکن اگر آپ حقیقت میں اس کے بارے میں سوچتے ہیں ، تو اس کہانی میں دوسرا سبق یہ ہے کہ کبھی کبھی حقیقت میں ایک بھیڑیا ہوتا ہے ۔

نوٹ : مضمون نگار ایک میتھ میشین ، کالم نگار اور آتھر ہیں ۔ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 02, 2021 12:45 PM IST