ممتا بنرجی سے لےکرکیپٹن امریندرسنگھ تک، ایگزٹ پول پریہ ہے اپوزیشن لیڈروں کا ردعمل

ایگزٹ پول کے نتائج سامنے آتے ہی ان پرلیڈروں کا ردعمل آنا بھی شروع ہوگیا ہے۔ بیشتر اپوزیشن لیڈرایگزٹ پول کے لیڈروں کو مسترد کررہے ہیں۔ 

May 19, 2019 11:45 PM IST | Updated on: May 19, 2019 11:45 PM IST
ممتا بنرجی سے لےکرکیپٹن امریندرسنگھ تک، ایگزٹ پول پریہ ہے اپوزیشن لیڈروں کا ردعمل

کیپٹن امریندر سنگھ اورممتا بنرجی

لوک سبھا الیکشن 2019 کے لئے ووٹنگ ختم ہونے کے ساتھ ہی ایگزٹ پول کے نتیجے بھی سامنے آگئے ہیں۔ بیشترایگزٹ پول کے نتائج مرکزمیں ایک بارپھراین ڈی اے حکومت بننے کی پیشین گوئی کررہے ہیں۔ ایگزٹ پول کے نتیجے کانگریس کے لئے مایوس کن ہیں کیونکہ ایک بھی ایگزٹ پول میں کانگریس کو اتنی سیٹین نہیں مل رہی ہیں کہ وہ دیگراپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کرحکومت بنا سکے۔ تقریباً سبھی ایگزٹ پول میں این ڈی اے مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بناتی ہوئی نظرآرہی ہے۔

ایگزٹ پول کے نتائج سامنے آنے کے ساتھ ہی ان پرلیڈروں کا ردعمل آنا بھی شروع ہوگیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے ایگزٹ پول کے نتائج پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے ٹوئٹرپرلکھا 'ہم نے سارے ایگزٹ پول 2004 میں بھی دیکھے تھے، 2018 کے پانچ ریاستوں کے الیکشن کے وقت بھی دیکھے تھے، سب کانگریس کی شکست دکھا رہے تھے، لیکن نتائج سبھی نے دیکھے۔ 23 مئی کا انتظارکیجئے، ساری حقیقت سامنے آجائے گی۔ کانگریس کی سیٹیں یقینی طورپربڑھیں گی، بی جے پی کے نعروں اورجملوں کی حقیقت بھی سامنے آئے گی۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی ایگزٹ پولس کے نتیجوں کو خارج کیا اورٹوئٹرپرلکھا 'میں ایگزٹ پول گاسپ پریقین نہیں کرتی۔ اس گاسپ کا مقصد ہزاروں ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ یا انہیں بدلنا ہے۔ میں سبھی اپوزیشن جماعتوں سے متحد، مضبوط اور بے خوف ہونے کی اپیل کرتی ہوں۔ ہم مل کراس لڑائی کو لڑیں گے'۔

ایگزٹ پول کولے کرنیشنل کانفرنس کے عمرعبداللہ نے کہا 'سبھی ایگزٹ پولس غلط نہیں ہوسکتے۔ وقت ٹی وی بند کرنے اورسوشل میڈیا کو لاگ آوٹ کرکے 23 مئی کے انتظارکا ہے'۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا کہ ایسا مت سوچئے کہ ایگزٹ پول صحیح ہیں۔ اس سے قبل کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا تھا کہ اگرپنجاب میں کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں شکست کی ذمہ داری وزرا اورممبران اسمبلی پرعائد ہوتی ہے۔

مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ اوربھوپال لوک سبھا سیٹ سے کانگریس امیدواردگ وجے سنگھ کا ماننا ہے کہ کم وبیش 2004 کی حالت بن گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی سروے پربھروسہ نہیں کرتے ہیں، سب کچھ 23 مئی کو واضح ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ نیوز 18 نیٹ ورک نے دنیا کی سب سے بڑی سروے ایجنسی آئی پی ایس اوایس کے ساتھ مل کرپورے ملک کی نبض ٹٹولی ہے۔ پورے ملک کے رائے دہندگان سے بات کرکے بے حد سائنسی طریقے سے ہم نے ایسا ایگزٹ پول کیا ہے۔ نیوز 18 - آئی پی ایس او ایس کے مطابق اس لوک سبھا الیکشن میں این ڈی اے کو 336 سیٹیں، یوپی اے کو 82 سیٹیں جبکہ دیگرپارٹیوں کو 124 سیٹیں مل سکتی ہیں۔

Loading...