உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حزب اختلاف کی جماعتوں کی پارلیمنٹ میں ہوئی میٹنگ، متعدد امور پر تبادلہ خیال

    حزب اختلاف کی جماعتوں کی پارلیمنٹ میں ہوئی میٹنگ، متعدد امور پر تبادلہ خیال

    حزب اختلاف کی جماعتوں کی پارلیمنٹ میں ہوئی میٹنگ، متعدد امور پر تبادلہ خیال

    کانگریس اورمتعدد ہم خیال جماعتوں کے کئی لیڈروں کی آج پارلیمنٹ ہاؤس میں میٹنگ منعقد ہوئی جس میں پیگاسس معاملے پر حکومت کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: کانگریس اورمتعدد ہم خیال جماعتوں کے کئی لیڈروں کی آج پارلیمنٹ ہاؤس میں میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں پیگاسس معاملے پر حکومت کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف حکمت عملی پر غور کیا گیا۔کانگریس ذرائع نے بتایا کہ یہ میٹنگ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر ملیکارجن کھڑگے کے چیمبر میں منعقد ہوئی، جس میں پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے پیش نظر حکومت کے خلاف حکمت عملی تیار کے لئے تبادلہ خیال کیا گیا۔

      میٹنگ میں راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملیکارجن کھڑگے، ڈپٹی لیڈر آنند شرما، جے رام رمیش، کے سی وینوگوپال، سکھیندو شیکھر رائے (ترنمول) تروچی شیوا اور آر ایس بھارتی (ڈی ایم کے)، ایلامارام کریم (سی پی ایم) وشوبھنورنشاد (ایس پی)، وندنا چوہان اور فوزیہ خان (این سی پی) ونئے وشوم (سی پی آئی) سنجے راوت (شیو سینا) ایم وی سریانش کمار (ایل جے ڈی)، مسٹر وائیکو (ایم ڈی ایم کے) اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف ادھیر رنجن چودھری، گورو گوگوئی، سریش کوڈکونیل، مانک ٹیگور، ٹی آر بالو (ڈی ایم کے)، حسین مسعودی (نیشنل کانفرنس) اے ایکم عارف (سی پی آئی- ایم) ایم پی اے شمس الدین (آئی یو ایم ایل)، این کے پریم چندرن (آر ایس پی)، تھامس جی (کیرالہ کانگریس ایم)، ڈاکٹر ڈی روی کمار (وی سی کے)، پروفیسر سوگتا رائے (ترنمول) ڈاکٹر تھروماولاون (وی سی کے) اور شیام سنگھ یادو (بی ایس پی) شامل تھے۔

      واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے پیگاسس جاسوسی کے معاملے پر کئے جا رہے ہنگامے کی وجہ سے مسلسل دوسرے ہفتے تک کوئی کام نہیں ہو سکا۔ حکومت اور اپوزیشن میں مسلسل رسہ کشی جاری ہے۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی بار بار ملتوی کرنی پڑ رہی ہے اور کام کاج نہیں ہو رہا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: